اوورسیز پاکستانیوں کے جائیدادوں سے متعلق تنازعات کے فوری حل کیلیے خصوصی عدالتیں قائم، ججز تعینات
پنجاب میں خصوصی عدالتوں کا قیام
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر پنجاب نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی مشاورت سے ’’پنجاب سپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانی پراپرٹی) ایکٹ 2025‘‘ کے تحت صوبے بھر میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے اور پنجاب کے تمام اضلاع میں ججز تعینات کر دیئے ہیں۔ یہ عدالتیں اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق تنازعات، غیرقانونی قبضوں اور پراپرٹی کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے قانونی مسائل کے حل کے لیے تیز رفتار، شفاف اور مؤثر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے فوری بنیاد پر وکالت کی جائے، امریکی ارکان کانگریس کا بائیڈن کو خط
خصوصی عدالتوں کے ججز کی تعیناتی
ایس اینڈ جی اے ڈی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پنجاب کے تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو بطور خصوصی عدالتوں کے جج تعینات کیا گیا ہے۔ یہ عدالتیں اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق کیسز کی فوری سماعت کریں گی تاکہ اُنہیں غیرضروری تاخیر کے بغیر انصاف فراہم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو اچھے انسان ہیں لیکن ان کے ساتھ ان کے اپنے ہی ملک کی طرف سے نا انصافی کی جا رہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
اوورسیز پاکستانیز کے حقوق کی حفاظت
وائس چیئرپرسن اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ یہ اقدام حکومتِ پنجاب کے اُس ویژن کا حصہ ہے جس کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کو قانونی تحفظ، سرمایہ کاری کے اعتماد اور شہری حقوق کی بحالی فراہم کی جا رہی ہے۔ عدالتوں کے قیام سے اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کے فیصلوں میں تیزی آئے گی، قبضہ مافیا کے خلاف قانونی کارروائی کو مؤثر بنایا جائے گا اور صوبے میں غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
حکومت کا عزم
امجد ملک نے مزید کہا کہ حکومتِ پنجاب اوورسیز پاکستانیوں کو قومی ترقی کا لازمی جز سمجھتی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ان خصوصی عدالتوں کا قیام وزیرِاعلیٰ پنجاب کے اس وژن کا عملی اظہار ہے جس کے تحت صوبے کو انصاف، شفافیت اور شہری فلاح کے اصولوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔








