پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا 27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین کیخلاف کارروائی کا اعلان
اسلام آباد میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئی ہے۔ اس میں تحریک انصاف کے سیف اللہ ابڑو اور جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر احمد خان نے بھی ووٹ دیا۔ دونوں جماعتوں نے اپنے اراکین کے خلاف آرٹیکل 62 کے تحت کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مبینہ طور پر خود کشی کرنے والے ایس پی عدیل اکبر کی ڈی آئی جی اسلام آباد کو چھٹی سے متعلق دی گئی درخواست اور میڈیکل رپورٹ کی تفصیلات سامنے آئیں۔
تحریک انصاف کا موقف
سما ٹی وی کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر نے کہا کہ ہم نے پارلیمانی پارٹی کو ہدایت دی تھی کہ کوئی بھی مخالفت میں ووٹ نہیں ڈالے گا۔ ایک رکن نے ہماری پالیسی کے خلاف ووٹ دیا۔ ہم سیف اللہ ابڑو کے خلاف آرٹیکل 62 کے تحت کارروائی کرنے کا آغاز کریں گے، اور انہیں اپنی پارٹی میں نہیں رہنے دیں گے۔ ان کی رکنیت بھی ختم کرائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں سکول کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور منشیات فراہم کرنے کے جرم میں خاتون ٹیچر کو 10سال قید کی سزا
سینیٹ اجلاس کا حال
سینیٹ کے اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت تحریک انصاف کے سینیٹر حامد خان نے اجلاس سے واک آوٹ کیا اور کہا کہ سیف اللہ ابڑو ایسا شخص نہیں تھا۔ مجھے افسوس ہوا کہ اس نے ترمیم کی حمایت میں ووٹ دیا، جو کہ آئین اور جمہوریت کے منافی ہے۔
جے یو آئی کا ردعمل
جمعیت علماء اسلام کے رہنما کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہمارے رکن کی طرف سے پارٹی آئین اور سینیٹ آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان بنگلہ دیش سے واپس آئیں تو کارروائی ہو گی۔ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے پر آرٹیکل 62 لگے گا، اور اس رکن کی سینیٹ رکنیت ختم ہو جائے گی۔








