بہاولنگر میں ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی پر پولیس نے دُلہا اور اس کے دوست کو حوالات میں بند کردیا
بہاولنگر میں مہندی کی تقریب میں پولیس کارروائی
بہاولنگر (ڈیلی پاکستان آن لائن) مہندی کی تقریب کے دوران بلند موسیقی کی وجہ سے پولیس نے دُلہا اور اس کے دوست کو تقریب سے اٹھا کر لے گئی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی پر دُلہا کو گرفتار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات
گرفتاری پر عوامی احتجاج
ہم نیوز کے مطابق، پولیس کی جانب سے دُلہا اور اس کے دوست کو شادی کے لباس میں گرفتار کرنے پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔ تاہم پولیس نے دونوں کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا، جہاں انہیں رات گزارنی پڑی۔ پولیس کارروائی کے دوران دلہا کے رشتے دار بار بار اہلکاروں سے درخواست کرتے رہے کہ گرفتاری نہ کی جائے، لیکن پولیس نے تمام درخواستوں کو نظر انداز کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شیر اپنا راستہ خود منتخب کرتا ہے اور ہمیشہ اُس پر رواں دواں رہتا ہے، مولانا حسرت موہانی عمر بھربھارتی مسلمانوں کے حقوق کی نگہبانی کرتے رہے۔
عدالت میں پیشی
اگلے دن شادی کے روز پولیس نے دونوں کو جج کے سامنے پیش کیا۔ جج نے دلہا کو شادی کے لباس میں دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا۔ پولیس نے عدالت سے 14 روزہ عدالتی ریمانڈ کی درخواست کی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ٹرانسجینڈر ڈاکٹر زین خان نے 5 دن کے بچے اور ماں کو سیلاب سے بچا لیا
وکیل کا مؤقف
دلہا کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے انتقام اور توجہ حاصل کرنے کے مقصد سے یہ کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیقی بجانا کوئی جرم نہیں، بلکہ شور مچانے کا قانون ایسی تقریبات کو روکنے کے لیے ہے جو مذہبی، فرقہ وارانہ یا صوبائی تنازعات پیدا کر سکتی ہیں، نہ کہ شادی جیسی خوشی کے مواقع کو نشانہ بنانے کے لیے۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے دونوں افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اس قانون کا مقصد عوامی امن و امان کو خطرے سے بچانا ہے، اور اسے شادی جیسے خوشی کے مواقع کو ہدف نہیں بنایا جا سکتا۔








