یادگاری تصاویر بنانے کا کام ختم ہوا ہمیں جلوس کی شکل میں سٹیشن سے باہر لایا گیا، باراتی بھارتی وکلاء تھے پاکستانی وفد کے ارکان دولہا بنے بیٹھے تھے۔
مضمون کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 214
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کے بعد نواز شریف کی امریکی روانگی متوقع
کانپور: معاشیات کا مرکز
معاشیات کے ماہرین کانپور کو اتر پردیش صوبے کی معاشیات کا کیپیٹل سٹی قرار دیتے ہیں۔ شہر کی مردم شماری 2002ء کے مطابق آبادی تقریباً 42 لاکھ تھی، جو اب 20 سال بعد دوگنا یعنی 80 لاکھ ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افسوس کا مقام ہے ہم نے قانون کی حکمرانی کو مذاق بنا دیا مالداروں کے لیے کچھ غریب کے لیے کچھ۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی
مشہور مقامات
کانپور کے قریب صوفی بزرگ بدیع الزماں زندہ شاہ کا مزار ہے۔ یہاں سے 20 کلومیٹر دور راجہ ستی پرشاد کا بنایا ہوا ایک شاندار مندر بھی موجود ہے، جسے انہوں نے اپنی مرحومہ اہلیہ کی یاد میں صرف ایک رات میں تعمیر کیا تھا۔ رانی جھانسی کے محلات کے آثار بھی کانپور کے مضافات میں موجود ہیں، جو انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں لڑنے والی رانی جھانسی کی یاد دلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2024 میں بانی پی ٹی آئی کی ڈیل فائنل ہو چکی تھی، اختیار ولی خان کا دعویٰ
مذہبی مقامات
کانپور میں دریائے گنگا کے چار گھاٹ بھی ہندوؤں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، ہانکی ہنومان مندر، جین گلاس مندر، خیرپتی مندر، بڑا دیوی مندر اور کے جے ٹمپل جیسے اہم مذہبی مقامات بھی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سال میں کتنی شکایات آئیں اور کتنے فیصلے کیے گئے؟ وفاقی محتسب نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں
تعلیمی شعبے میں برتری
کانپور تعلیمی میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ یہاں ابتدائی سے لے کر اعلیٰ درجے تک، ٹیکنیکل، میڈیکل، انجینئرنگ، اور زرعی یونیورسٹیوں سمیت مختلف تعلیمی ادارے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم : وزارت پیٹرولیم کا پہلے روز کے اختتام پر مہمانوں کےاعزاز میں خصوصی عشائیہ
استقبال کی تقریبات
کانپور شہر کی آمد پر، ہم نے پروفیسر گوپال کا شکریہ ادا کیا۔ جیسے ہی ہماری ٹرین کانپور ریلوے اسٹیشن پر رکی، تقریباً 30 وکیل ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لیے ہمیں خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ویوو کا بڑا اعلان، vivo V70 5G کے لیے عاطف اسلم دوبارہ برانڈ ایمبیسیڈر منتخب
تعارفی تقریب
استقبال کے بعد انفرادی تعارف کا سلسلہ شروع ہوا۔ کانپور بار ایسوسی ایشن کے صدر گنیش کمار ڈکشٹ، نائب صدر شکیل صدیقی، اور دیگر عہدیدار ہمارے ساتھ موجود تھے۔ وفد کی یادگاری تصاویر بنانے کے بعد ہمیں جلوس کی صورت میں باہر لایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کی خواہش ہے کہ عالمی اضافے کے باوجود پیٹرول کی قیمتیں مزید نہ بڑھائی جائیں، ڈان اخبار کی رپورٹ
ہوٹل میں آمد
ایک ائیرکنڈیشنڈ کوچ اور متعدد کاریں ہمارے استقبال کے لیے کھڑی تھیں۔ ہمارا قافلہ ہوٹل ’وجے ولا‘ کی جانب روانہ ہوا۔ ہوٹل کے اندر مزید وکلاء اور اخباری نمائندے بھی موجود تھے۔
آئندہ کی مصروفیات
کانپور بار کے صدر نے اگلے دن کی مصروفیات کے بارے میں مشورہ کیا کہ ہم شہر کی سیر کرنا چاہیں گے یا گنگا صفائی مہم میں حصہ لینا چاہیں گے تاکہ آبی آلودگی کے خلاف عوامی شعور بیدار کیا جا سکے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








