27 ویں ترمیم، فیلڈ مارشل کو آرٹیکل 248 کے تحت قانونی استثنیٰ دے دیا گیا۔
آئینی ترمیم کی منظوری
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ میں اس وقت کیا ہو رہا ہے ۔۔؟ تازہ ترین صورتحال جانیے
چیف آف آرمی اسٹاف کا نیا نام
آئین کے آرٹیکل 243 کی شق 4 اور 7 میں ترمیم کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کا نام تبدیل کر کے کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان پولیس میں نیا تنازع پیدا ہوگیا، ایڈیشنل آئی جی بلوچستان کا نئے آئی جی کے ماتحت کام کرنے سے انکار
تقرری کا نیا طریقہ کار
ترمیم کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کی تجویز پر ایئرچیف اور نیول چیف کی طرح کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کا تقرر کریں گے۔ جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم، آرمی چیف کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کریں گے اور یہ پاکستان آرمی کے ارکان میں سے ہوگا جس کی تنخواہ اور الاونسز مقرر کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر صحافی مطیع اللّٰہ جان کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا کردیا گیا
فوجی افسران کی ترقی
ترمیم کے تحت وفاقی حکومت فوجی افسر کو فیلڈ مارشل، ایئر مارشل یا ایڈمرل چیف کو رینک پر ترقی دے گی۔ جس کے بعد وردی اور مراعات تاحیات رہیں گی۔ فیلڈ مارشل، ایئر مارشل اور ایڈمرل چیف کو بطور قومی ہیروز تصور کیا جائے گا اور تینوں کو آرٹیکل 47 کے بغیر عہدوں سے نہیں ہٹایا جا سکے گا۔
ذمہ داریوں اور قانونی استثنیٰ
ترمیم کے مطابق وفاقی حکومت فیلڈ مارشل، ایئر مارشل اور ایڈمرل چیف کی ذمہ داریوں اور امور کا تعین کرے گی جبکہ فیلڈ مارشل کو آرٹیکل 248 کے تحت قانونی استثنیٰ حاصل ہوگا۔








