وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج اور شدیدنعرے بازی
وفاقی وزیر قانون کا اقدام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا ایران پر اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار، فریقین سے تحمل کی اپیل
آئینی ترمیم کی حمایت
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی آئینی ترمیم بل پیش کرنے کے وقت 64 ارکان نشستوں پر کھڑے ہوئے۔ تاہم، ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: فنڈز کی کمی نہیں، ایک ماہ کے اندر سیلاب متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کر دیا جائے گا: مجتبیٰ شجاع الرحمن
سینیٹ کی منظوری
واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا تھا۔ اس ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے جبکہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔ آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔ مزید یہ کہ وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل عمل میں آئے گی اور صدر مملکت کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہوگا۔
احتجاج اور واک آؤٹ
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی آئینی ترمیم بل کی پیشی کے دوران حمایت میں کھڑے ارکان میں پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان بھی شامل تھے۔ دوسری جانب، دیگر ارکان نے آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔








