کسی شخص کو استثنیٰ دینا آئین اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے: حافظ نعیم الرحمان
حافظ نعیم الرحمان کا خطاب
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کسی شخص کو استثنیٰ دینا آئین اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ موجودہ حکومت آئین کا حلیہ بگاڑ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی نے پنجاب اور کاشتکار کا سر بلند کر دیا، آڑھتی کے جبر سے بچ گئے: بزرگ کاشتکار
آئین کی بحالی کی ضرورت
تفصیلات کے مطابق لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہم آئین پاکستان کو اصل شکل میں بحال کروانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ 26ویں آئینی ترمیم پر بھی ملاقاتیں ہوئیں لیکن ہمارا مؤقف واضح تھا، ہم اس وقت بھی آئین کے ساتھ کھڑے ہوئے اور آج بھی کھڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں کشیدہ صورتحال؛ وزیراعظم کے پی شرما اولی مستعفی ہوگئے
آئینی تبدیلیوں پر تحفظات
موجودہ حکومت آئین کا حلیہ بگاڑ رہی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ ختم کر کے چیف جسٹس سپریم کورٹ کر دیا گیا، اب آئینی عدالت کا چیف جسٹس وزیراعظم لائیں گے جس کو وزیراعظم چاہیں گے، وہ چیف جسٹس ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عبیرہ ضیاء کی اپنے والد کے ہمراہ پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیات کنول لیاقت سے ملاقات، ماحولیاتی چیلنجز پر تبادلہ خیال
جوڈیشل کمیشن کی اکثریت
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں اکثریت حکومت کی ہے، کسی شخص کو استثنیٰ دینا آئین اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ تمام اسلامی خلیفہ راشدین عدالتوں میں پیش ہوتے تھے، کوئی کتنا بھی مضبوط ہو اسے استثنیٰ نہیں دینا چاہیے۔
آئین کی اصل شکل کی بحالی کا مطالبہ
اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین پاکستان کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے۔








