لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر سی سی ڈی کی تحویل سے 5 سالہ بچی بازیاب کروانے کے بعد دادی کے حوالے کر دی گئی۔
پولیس کی کارروائی میں بچی کی گرفتاری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سی سی ڈی پولیس چوری اور ڈکیتی کے 2 ملزموں کی گرفتاری کے دوران 5سالہ بچی کو بھی ساتھ لے گئی۔ دادی 5سالہ پوتی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: جماعتِ اسلامی مکمل طور پر ناکام ہو چکی، نااہلی چھپانے کے لیے سڑکوں پر آ رہی ہے، ترجمان سندھ حکومت
عدالتی سماعت
دنیا ٹی وی کے مطابق جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کیس پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ سیدہ شاہدہ ارشد نے عدالت میں دلائل دیے۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی نے چھاپے کے دوران مختلف الزامات میں 2 سگے بھائیوں کو گھر سے گرفتار کیا تو ساتھ 5 سالہ بچی تحریم کو بھی لے گئے۔ ابھی تک گرفتار کیے جانے والے دونوں بھائیوں اور 5 سالہ بچی کا کچھ پتہ نہیں چل سکا، عدالت بازیابی کا حکم دے۔
یہ بھی پڑھیں: مشہور ڈائیلاگ ہے ’’ایک سالہ مچھر نے پوری حکومت کو ہلا دیا‘‘بالکل یہی حال سندھ حکومت کا ہے،حلیم عادل شیخ
سرکاری وکیل کی رپورٹ
دوران سماعت سرکاری وکیل نے کیس کے متعلق رپورٹ جمع کروائی اور سی سی ڈی نے 5سالہ تحریم کو جسٹس اسجد جاوید گھرال کی عدالت میں پیش کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: سیفٹی راڈ نہ لگانے پر 44 موٹر سائیکل سوار گرفتار
گرفتاری کی تفصیلات
سرکاری وکیل نے بتایا کہ پولیس نے قاسم، فخر عباس کو 10 اکتوبر 2025 کو بچی سمیت گھر سے اٹھایا۔ 6 نومبر کو قاسم مقابلے میں ہلاک ہوگیا جبکہ فخر عباس کو زخمی حالت میں ہسپتال داخل کروایا گیا ہے۔ عدالت نے زخمی فخر عباس کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
عدالتی حکم
عدالت نے بچی کو لواحقین کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔








