اعلان کرچکے ہیں آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے،ہم آئین اور قانون کے ساتھ ہیں، بیرسٹر گوہر
پی ٹی آئی کی آئینی ترمیم سے عدم وابستگی
اسلام آباد(آئی این پی )چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے کہا ہے کہ ہم اعلان کر چکے ہیں کہ آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے، تقرریں بھی کریں گے، واک آئوٹ اور احتجاج بھی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ سربھی چندنا نے کرن شرما سے شادی کے 6 مہینے بعد خاموشی توڑ دی
خواجہ محمد آصف کا بیان
پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے خواجہ محمد آصف کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا راجہ پرویز اشرف کے خلاف پٹیشن لے کر آپ افتخار چودھری کے پاس نہیں گئے؟ میاں صاحب خود وکیل بن کر میموگیٹ کمیشن بنوانے کے لیے نہیں گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ جو ججز رخصت ہو چکے ہیں، چاہے وہ اچھے تھے یا برے، ان کے بارے میں غلط الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کا فیصلہ محفوظ
نواز شریف کی سیاسی حیثیت
باہرستگوہر نے مزید کہا کہ نواز شریف آئیں یا نہ آئیں، وہ پاکستانی سیاست سے غیر متعلق ہو چکے ہیں۔ نواز شریف تو خیال کر رہے تھے کہ مجھے لا کر ریڈ کارپٹ بچھائی جائے گی، لیکن پارلیمان میں نواز شریف کے لیے کسی نے بھی ریڈ کارپٹ نہیں بچھائی۔
یہ بھی پڑھیں: سی ای او لیسکو کی زیر صدارت اجلاس، ریکوری کے حوالے سے اہم فیصلے، ڈسکو سپورٹ یونٹس کا بجلی چوروں کے خلاف آپریشن جاری
سپریم کورٹ اور قومی مسائل
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف نے پارلیمان میں صرف تین الفاظ بولے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سپریم کورٹ کا ادارہ ختم کیا جا رہا ہے، ہم آئین اور قانون کے ساتھ ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جس دن بانی پی ٹی آئی آئیں گے، وہ جہاں بیٹھیں گے وہ عدالت ہوگی، اور جو کہیں گے وہ قانون ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کِم جانگ اُن: چین کے اتحادی سے ’بدترین دوست‘ بننے تک-1
دہشتگردی کے خلاف اتحاد
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ایک انتہائی افسوسناک واقع پیش آیا ہے، ہم دہشتگردی کے خلاف ہیں اور اپنی پاک افواج کے ساتھ ہیں، جن کی بے پناہ قربانیاں ہیں۔ ہم مل کر اس جنگ کے خلاف کامیابی حاصل کریں گے۔
پی ٹی آئی کی قومی پالیسی
اس موقع پر رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم نے آئین و قانون کا جنازہ نکال دیا ہے اور ہم اس ترمیم کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی پالیسی دینے کے لیے امن جرگہ بلایا گیا ہے، اور ہم مزید بدامنی اور دھماکے برداشت نہیں کر سکتے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل کو صبر و استقامت اور سفارتی سطح پر حل کرنا چاہیے۔








