افغانستان کی طالبان حکومت نے تاجروں کو پاکستان کیساتھ تجارت ختم کرنے کا حکم دیدیا
افغان طالبان کا پاکستان سے تجارت ختم کرنے کا حکم
کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغانستان کی طالبان حکومت نے تاجروں کو پاکستان کے ساتھ تجارت ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چاچا نے دراصل گالیاں کیوں نکالیں؟ منظرعام پر آگئے، خود ہی اصل وجہ بتا دی
تجارتی انحصار ختم کرنے کی ہدایت
تفصیلات کے مطابق، افغانستان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے افغان تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ انہیں تجارت کے لیے پاکستان پر انحصار ختم کر دینا چاہیے اور متبادل راستوں کو اپنانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے اراضی تنازع کے کیس میں لاہور ہائی کورٹ کا حکم کالعدم کردیا
ادویات کے معیار پر تحفظات
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق ملا برادر نے پاکستان سے درآمد شدہ ادویات کے معیار کو ناقص قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ادویات کے درآمد کنندگان کو 3 ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی کھاتے بند کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کو اب درآمدات و برآمدات کے لیے متبادل تجارتی راستوں تک رسائی حاصل ہو چکی ہے اور خطے کے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک دلہا، ایک ہی بستر اور دو دلہنیں، پاکستان کی منفرد شادی
مجوزہ آپشنز کی طرف رجوع
افغان میڈیا کے مطابق ملا برادر نے کہا کہ ’’تمام افغان تاجر اور صنعت کار پاکستان کے بجائے دوسرے تجارتی راستوں کی طرف رجوع کریں۔ میں تمام تاجروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ جلد از جلد درآمدات و برآمدات کے لیے متبادل آپشنز پر عمل درآمد کریں۔ اس ہدایت کے بعد اگر کوئی تاجر پاکستان کے ساتھ تجارت جاری رکھتا ہے تو حکومت اس کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی اور نہ ہی اس کی بات سنے گی۔’’
پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی شرط
ملا برادر کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے دوبارہ کھولنا چاہتا ہے تو اسے ضمانت دینی ہوگی کہ یہ راستے آئندہ کسی بھی صورت میں بند نہیں کیے جائیں گے۔








