27ویں آئینی ترمیم 2 تہائی اکثریت کے ساتھ قومی اسمبلی سے منظور
27th Constitutional Amendment Passed
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کے بعد 27ویں آئینی ترمیم 2 تہائی اکثریت کے ساتھ قومی اسمبلی سے منظور کر لی گئی۔ آئینی ترمیم کے حق میں 234 ووٹ ڈالے گئے ۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹس اب بھی بنگلہ دیش کے میڈیا، تعلیمی شعبے اور انتظامیہ میں سرگرم ہیں، تہلکہ خیز انکشاف
Session Details
اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی۔ پہلے مراحلے میں 27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری لی گئی، تمام 59 شقیں دوتہائی اکثریت سے منظور کی گئیں، اراکین نے کھڑے ہو کر حمایت ظاہر کی، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی ممالک سپین، پرتگال اور فرانس میں بجلی کا بڑا بریک ڈاون، لاکھوں افراد متاثر
Voting Outcome
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی جس کی حمایت میں 231 ووٹ آئے جبکہ تحریک کی مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔ تحریک کے بعد اب قومی اسمبلی میں سپیکر ایاز صادق آئینی ترمیم کی شق وار منظوری لی۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب میں ایک اور بہترین فیچر کے اضافے کا فیصلہ
Amendments and Changes
27 ویں ترمیم کے سینیٹ سے منظور شدہ بل کی 4 شقیں حذف کی گئی ہیں جبکہ 3 میں ترمیم اور ایک شق کا اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میں اسکی شکل نہیں دیکھنا چاہتا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا شہزاد اکبر کی تصویر پر ردعمل
Chief Justice Provisions
موجودہ چیف جسٹس ہی چیف جسٹس آف پاکستان کہلائیں گے، صدر مملکت، آڈیٹر جنرل، چیف الیکشن کمشنر کا حلف چیف جسٹس آف پاکستان لیں گے۔ موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سینیئر جج چیف جسٹس آف پاکستان کہلائے گا۔
Session Attendance
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف اور ن لیگ کے صدر نوازشریف بھی شریک ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی بھی کی گئی۔








