لاہور ہائی کورٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی
27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست واپس
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران شہری حسان لطیف نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ جسٹس چوہدری اقبال نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر اسے نمٹا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: قابض صہیونیوں کی طرف سے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کے متنازع قانون کی منظوری ظلم و بربریت کی انتہا ہے، سراج الحق
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی وضاحت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد نے عدالت کو بتایا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں مزید تبدیلیاں زیرِ غور ہیں۔ لہٰذا یہ درخواست قبل از وقت ہے اور ممکن ہے کہ تبدیلیوں کے بعد درخواست گزار کے اعتراضات ختم ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کا ایران میں ہونے والے خصوصی علاقائی اجلاس میں شرکت سے انکار
درخواست گزار کا مؤقف
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار درخواست واپس لینا چاہتا ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ مقسط سلیم نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ فی الحال درخواست واپس لے رہے ہیں۔ تاہم، اگر مستقبل میں 27 ویں ترمیم سے مطمئن نہ ہوئے تو دوبارہ چیلنج کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ججوں کے تقرر میں پارلیمان کا کردار عدلیہ پر حملہ کیسے ہوگیا؟ سینیٹ میں شیری رحمان کا استفسار
عدالت کا فیصلہ
جسٹس چوہدری اقبال نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر اسے نمٹا دیا اور کہا کہ درخواست گزار چاہے تو دوبارہ نئی درخواست دائر کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رضوان کے پاس سانس لینے کا بھی وقت نہیں ہوگا۔
درخواست میں فریقین
درخواست میں وزیراعظم، سپیکر قومی اسمبلی اور وزارتِ قانون کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست کا بنیادی مؤقف
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کو تاحیات استثنیٰ دینے کی تجاویز آئین کی اصل روح سے متصادم ہیں۔ لہٰذا عدالت ترمیم کو آئین کے منافی قرار دے کر کالعدم قرار دے۔








