قومی اسمبلی تینوں مسلح افواج کے لیے نئے ضابطوں کی منظوری دے گی
قومی اسمبلی میں نئے قواعد و ضوابط کی بحث
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کل تینوں افواج کیلئے نئے قواعد و ضوابط سے متعلق قانون سازی پر بحث کرے گی اور قانون کی منظوری دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں آج پھر اضافہ ریکارڈ؛ فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
آئینی ترمیم کے بعد کی صورت حال
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی نے بدھ کے روز 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ کل (جمعہ) کو ایوان کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنے سے قبل تینوں افواج بری، بحری اور فضائیہ کیلئے نئے قواعد و ضوابط سے متعلق قانون سازی پر بحث ہوگی اور منظوری دی جائے گی، یہ قانون سازی آئین کے آرٹیکل 243 میں ہونے والی حالیہ ترمیم کے مطابق ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے بحری جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا کا بیرون ملک تعیناتی کے دوران عمان کا دورہ
نئے عہدوں کا تقرر
باوثوق پارلیمانی ذرائع کے مطابق ترمیم شدہ آئین میں درج ہے کہ وزیرِاعظم، چیف آف آرمی سٹاف (جو ساتھ ہی چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے) کی سفارش پر کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کا تقرر کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کی کیپٹن محمد علی قریشی شہید کے گھر آمد، اہل خانہ سے ملاقات اور اظہارِ تعزیت
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا خاتمہ
اس کے ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم کردیا جائے گا اور ترمیم کے تحت چیف آف آرمی سٹاف (بطور چیف آف ڈیفنس فورسز)، چیف آف ائیر سٹاف اور چیف آف نیول سٹاف کے تقرر وزیراعظم کی سفارش پر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جب سوچ اور طرزِ حکمرانی ایسا ہو تو پھر اداروں کا زوال پذیر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، شاید ایسی باتیں ہم اپنے منصب اور حیثیت کی پہچان سمجھتے ہیں
افسران کی ترقی اور مراعات
مزید برآں جن افسران کو فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ائیر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے پر ترقی دی جائے گی وہ اپنی وردی، مراعات اور مرتبہ تاحیات برقرار رکھیں گے جب کہ ان کی آئندہ ذمہ داریاں وفاقی حکومت طے کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو اسلامی ملک نہیں سمجھتے، وہاں اسلامی قوانین نافذنہیں ہیں، مفتی شمائل ندوی
آئینی تحفظ اور ہٹانے کا طریقہ کار
ذرائع کے مطابق ترمیم شدہ آئین کے تحت ان اعلیٰ فوجی عہدوں کو آئینی تحفظ حاصل ہوگا اور انہیں صرف آرٹیکل 47 کے طریقہ کار کے مطابق ہٹایا جا سکے گا جب کہ اس کے ساتھ ہی آرٹیکل 248 کے تحت صدرِ مملکت کو حاصل استثنیٰ اب ان افسران تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جارحیت پر پاک فوج کے بھرپور جواب پر ہمارے سر فخر سے بلند ہیں: سلمان اکرم راجہ
نئی قانون سازی کا عمل
ذرائع نے مزید بتایا کہ اس آئینی ترمیم کے بعد نئی قانون سازی پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے کی جائے گی تاکہ تینوں افواج کے نظام میں عملی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی کے 44 سکولوں میں بم کی اطلاع، افراتفری پھیل گئی
ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی تعیناتی
اسی دوران ذرائع نے اشارہ دیا کہ پاک فضائیہ کے موجودہ سربراہ، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مزید 5 سال کیلئے دوبارہ تعینات کیا جائے گا اور ان کی نئی مدتِ تقرری مارچ اگلے سال سے شروع ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کین ولیمسن کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ سے فوری ریٹائرمنٹ کا اعلان
کارنامے اور اعزازات
ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو، جنہوں نے 19 مارچ 2021 کو کمان سنبھالی تھی انہیں مارچ 2024 میں ایک سال کی توسیع دی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ جنگ میں شاندار قیادت کے باعث ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کو مارشل آف دی ایئر فورس (MAF) کا اعزازی درجہ دینے کی تجویز زیرِ غور ہے اور وہ اس اعزاز کے حامل پہلے چیف آف ائیر سٹاف ہوں گے۔
پاکستان آرمی میں نئے تعیناتیاں
ذرائع کے مطابق، پاکستان آرمی میں بھی جلد ہی دو مزید فور سٹار جنرلز تعینات کیے جائیں گے اور ان میں ایک کو وائس چیف آف آرمی سٹاف (VCAS) اور دوسرے کو کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ مقرر کیا جائے گا جبکہ دونوں عہدے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ماتحت ہوں گے۔








