27ویں آئینی ترمیم؛ جسٹس صلاح الدین پنہور کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط، فل کورٹ بلانے کا مطالبہ
اسلام آباد میں جج کا خط
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)27ویں آئینی ترمیم پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا، جس میں فل کورٹ بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتوں سے عوام ہی نہیں،ججز بھی غیر مطمئن ہیں، آقا اور غلام کا نظام اب مزید چلنے والا نہیں:حافظ نعیم الرحمان
خط کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، جسٹس صلاح الدین پنہور نے چیف جسٹس پاکستان کو خط میں کہا ہے کہ بطور احتجاج نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھتے ہوئے خط لکھ رہا ہوں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فل کورٹ میٹنگ بلا کر آئینی ترمیم کا شق وار جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے مؤثر ردعمل سے دہشتگردوں کو حملوں سے رفتار پکڑنے کے مقصد میں مکمل ناکامی ہوئی۔۔۔ترک جریدے کی رپورٹ
آئینی تحفظ کی ضرورت
خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے۔ ستائیسویں ترمیم اختیارات کے توازن کو خراب کر سکتی ہے، آئین تقاضا کرتا ہے کہ سپریم کورٹ اس کا تحفظ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: چیلنج پر درخواست: وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل کو 27A کا نوٹس جاری
تاریخی فیصلہ سازی
جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا ہے کہ تاریخ آسانی کو نہیں بلکہ ہماری فیصلہ سازی کی ہمت کو یاد رکھے گی۔ انہوں نے عوامی اعتماد کو بچانے کیلئے فوری فل کورٹ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں گن پوائنٹ پر ساڑھے8 لاکھ روپے اور آئی فون ڈکیتی کی 15 پر کال کرنے والا خود ہی واردات کا ماسٹر مائنڈ نکلا،ملزم گرفتار
قانون کی حکمرانی کی اہمیت
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم ججز اس بات کو یقینی بنائیں کہ قانون کی حکمرانی صرف لفظوں میں نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہو۔ بطور جج آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو شخص سیٹ نہیں جیت سکتا، لیکچر مت دے : عظمیٰ بخاری حسن مرتضیٰ پر برس پڑیں
خاموشی اور خطرات
جسٹس صلاح الدین پنہور نے اشارہ دیا کہ ایک وقت آتا ہے جب خاموشی احتیاط نہیں بلکہ دستبرداری ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا وقت ہم پر بھی آسکتا ہے، اور مجھے 27ویں ترمیم ان بنیادوں کو چھوتی نظر آرہی ہے جن پر عدلیہ کی عمارت قائم ہے۔
آزادی کی اہمیت
جسٹس صلاح الدین پنہور نے مزید کہا کہ اگر عدلیہ آزاد نہیں تو پھر قانون کی حکمرانی صرف ایک جملہ رہ جاتی ہے۔ 27ویں ترمیم ججز تقرری، برطرفی اور عدلیہ کی مالی و انتظامی خود مختاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔








