صدر مملکت آصف علی زرداری نے 27ویں آئینی ترمیمی بِل پر دستخط کردیے
صدر زرداری کی دستخط
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر آصف علی زرداری نے 27ویں آئینی ترمیمی بِل پر دستخط کیے جو کہ دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے۔ اس کے بعد یہ بل اب آئین کا حصہ بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور
آئینی ترمیم کی منظوری کا عمل
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد سینیٹ سیکریٹریٹ نے آئینی ترمیمی بل 2025 وزارت پارلیمانی امور کو بھجوایا تھا۔ وزارت پارلیمانی امور نے آئینی ترمیمی بل صدر کو بھیجا، جس کے بعد صدر کی منظوری کے بعد وزارت قانون گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی ایک ناکام بغاوت تھی، اس کے کردار کسی رعایت کے مستحق نہیں: عظمیٰ بخاری
ترمیم میں نئی ترامیم
قبل ازیں، سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینیٹ میں پیش کیا، جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں ترمیم 1973 کے آئین کے تابوت میں آخری کیل ہے، مونس الہیٰ
پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے موقف
پی ٹی آئی نے سینیٹ میں ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا، جب کہ جے یو آئی ف نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ پی ٹی آئی اراکین نے حتمی منظوری سے قبل واک آؤٹ کیا، جبکہ جے یو آئی ف کے اراکین ایوان میں موجود رہے۔
ووٹنگ کے نتائج
آئینی ترمیم کے حق میں 64 ووٹ پڑے جبکہ جے یو آئی کے 4 ارکان نے مخالفت کی۔








