یک زبان: فلسطینیوں کے ساتھ قومی قیادت کی یکجہتی کا اظہار
اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میچ سے قبل پچ رپورٹ سامنے آگئی
شرکت کرنے والے رہنما
آل پارٹیز کانفرنس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نواز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اور سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان سمیت ملک کی دیگر سیاسی قیادت بھی شریک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف 11 اور 12 دسمبر کو ترکمانستان کا دورہ کریں گے
صدر آصف علی زرداری کا خطاب
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ یاسر عرفات یہاں آتے جاتے رہے اور بینظیر بھٹو کے ساتھ وہ ان سے ملتے رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال پہلے اسرائیل نے غزہ اور فلسطین پر جارحیت کی تھی، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے اقدامات دنیا کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اسرائیل فلسطین کے علاوہ لبنان پر بھی جارحیت کر رہا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، جس کے باعث 41 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ فلسطین اور غزہ میں صحت اور تعلیم کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نور خان ایئر بیس چکلالہ کے قریب حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا
عالمی برادری کا مطالبہ
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم اقوام عالم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کو روکیں۔ ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ ہر فورم پر اٹھاتے رہیں گے، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل تمام قبضہ کیے گئے عرب علاقوں سے واپس جائے، اور عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے میں ناکام ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلم فیسٹیول میں عالیہ بھٹ کی طبعیت خراب ہوئی تو کرینہ کپور نے کیا کیا؟
حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان میں حماس کا دفتر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی حمایت میں پاکستان کو واضح پوزیشن لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو دہشت گرد نہیں بلکہ ایک قانونی تنظیم کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ قرارداد پاکستان کے تناظر میں ہم اسرائیل کو آزاد ریاست تسلیم نہیں کرتے کیونکہ قائداعظم نے 1940 میں اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فوڈ سیفٹی ٹیموں کا ناقص گھی سپلائی کرنے والی فیکٹری کے خلاف آپریشن، 81ہزار کلو بناسپتی گھی تلف
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی باتیں
سربراہ ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں سیاسی مظاہروں سے آگے بڑھ کر سفارتی طور پر بھی بات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی تمام جامعات میں فلسطین کے بچوں کو اسپانسر کریں۔
خطاب میں دیگر رہنما
آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مگسی نے کہا کہ ہمارے چیخنے سے اسرائیل کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری سالک حسین نے کہا کہ فلسطین میں بچے شہید ہو رہے ہیں اور مسئلہ فلسطین کے حل کی طرف ہمیں سوچنا چاہیے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عبدالعلیم خان نے اسرائیلی بربریت کے اہمیت کا ذکر کیا اور کہا کہ ہمیں فلسطین کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے بھی فلسطین کے ساتھ ساتھ کشمیر کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔








