مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
استعفے کی خبر
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کسی بھی مستحکم جمہوری ملک میں اتنی ترامیم نہیں ہوتیں، جتنی ہمارے ہاں محض طاقتوروں کی خواہش پر کی جاتی ہیں،سراج الحق
جسٹس منصور علی شاہ کا استعفی
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے کا اختتام احمد فراز کی نظم "محاصرہ" کے اشعار کے ساتھ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعدیہ عباسی کے چچا خالد محمود عباسی اسلام آباد میں انتقال کر گئے
نظم "محاصرہ" کے اشعار
انہوں نے لکھا:
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
نظم کا پیغام
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا








