مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
استعفے کی خبر
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی طیارے نے جدید ترین ’غیر ملکی‘ اسٹیلتھ طیاروں پر نشانہ باندھ کر انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا
جسٹس منصور علی شاہ کا استعفی
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے کا اختتام احمد فراز کی نظم "محاصرہ" کے اشعار کے ساتھ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 21 ویں گریڈ کے افسر نے آئی جی بلوچستان بننے سے معذرت کرلی سورس: ڈان اخبار کا دعویٰ
نظم "محاصرہ" کے اشعار
انہوں نے لکھا:
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
نظم کا پیغام
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا








