مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
استعفے کی خبر
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں، سوشل میڈیا پر بحث کے بعد امریکی صدر کا تازہ بیان آگیا
جسٹس منصور علی شاہ کا استعفی
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے کا اختتام احمد فراز کی نظم "محاصرہ" کے اشعار کے ساتھ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ نے تباہی مچا دی، عمارتیں بہہ گئیں، 5 بچوں سمیت 11 افراد ہلاک
نظم "محاصرہ" کے اشعار
انہوں نے لکھا:
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
نظم کا پیغام
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا








