لاہور ہائیکورٹ سے کوئی بھی جج استعفیٰ دینے کو تیار نہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ
لاہور ہائیکورٹ میں ججز کے استعفے کا مسئلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف وکیل میاں داؤد نے دعویٰ کیا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں کے بعد لاہور ہائیکورٹ سے کوئی بھی جج استعفیٰ دینے کو تیار نہیں ہوا۔ اس سے پہلے میاں داؤد نے دعویٰ کیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے چھ ججز کے مستعفی ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائیبر پٹرولنگ سیل سے 1600 سے زائد منافرت پھیلانے والے اکاؤنٹ رپورٹ، 170 افراد گرفتار
میاں داؤد کا بیان
اپنی یاک ایکس پوسٹ میں میاں داؤد نے لکھا "لاہور ہائیکورٹ سے کوئی بھی معزز جج صاحب فوری طور پر استعفی دینے کیلئے تیار نہیں ہوئے، تاہم یہ حقیقت تصدیق شدہ ہے کہ چند دن پہلے تک چند جج صاحبان بڑی انقلابی نوعیت کی مشاورت جاری رکھے ہوئے تھے۔"
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی: کیا اسرائیل کو سعودی عرب اور اسلامی دنیا کے لیے قابل قبول ریاست بنانے کا منصوبہ دوبارہ زیر غور آئے گا؟
ججز کی مشاورت اور اجلاس
انہوں نے مزید کہا "چند جج صاحبان کا موقف تھا کہ پہلے جسٹس منصور علی شاہ کا استعفی دیکھتے ہیں، پھر حتمی فیصلہ کریں گے، آج 3 بجے جب اطلاعات کنفرم ہو گئیں کہ جسٹس منصور علی شاہ استعفی دے رہے ہیں اور پھر 6 بجے تک استعفی منظر عام پر بھی آ گیا تو چند جج صاحبان کا دوبارہ غیر رسمی اجلاس ہوا اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔"
ججز کی روزمرہ کی ہدایات
میاں داؤد ایڈووکیٹ کے مطابق "رات 11 بجے تک آخری اطلاعات کے مطابق چھ سات جج صاحبان نے اپنے اپنے سٹاف کو روٹین کے مطابق صبح کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔"








