لاہور ہائیکورٹ سے کوئی بھی جج استعفیٰ دینے کو تیار نہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ
لاہور ہائیکورٹ میں ججز کے استعفے کا مسئلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف وکیل میاں داؤد نے دعویٰ کیا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں کے بعد لاہور ہائیکورٹ سے کوئی بھی جج استعفیٰ دینے کو تیار نہیں ہوا۔ اس سے پہلے میاں داؤد نے دعویٰ کیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے چھ ججز کے مستعفی ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ 2025ء کے لیے 1 لاکھ 40 ہزار امیدواروں کی رجسٹریشن، ٹیسٹ 26 اکتوبر کو ہوگا
میاں داؤد کا بیان
اپنی یاک ایکس پوسٹ میں میاں داؤد نے لکھا "لاہور ہائیکورٹ سے کوئی بھی معزز جج صاحب فوری طور پر استعفی دینے کیلئے تیار نہیں ہوئے، تاہم یہ حقیقت تصدیق شدہ ہے کہ چند دن پہلے تک چند جج صاحبان بڑی انقلابی نوعیت کی مشاورت جاری رکھے ہوئے تھے۔"
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں افغان چیک پوسٹ تباہ
ججز کی مشاورت اور اجلاس
انہوں نے مزید کہا "چند جج صاحبان کا موقف تھا کہ پہلے جسٹس منصور علی شاہ کا استعفی دیکھتے ہیں، پھر حتمی فیصلہ کریں گے، آج 3 بجے جب اطلاعات کنفرم ہو گئیں کہ جسٹس منصور علی شاہ استعفی دے رہے ہیں اور پھر 6 بجے تک استعفی منظر عام پر بھی آ گیا تو چند جج صاحبان کا دوبارہ غیر رسمی اجلاس ہوا اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔"
ججز کی روزمرہ کی ہدایات
میاں داؤد ایڈووکیٹ کے مطابق "رات 11 بجے تک آخری اطلاعات کے مطابق چھ سات جج صاحبان نے اپنے اپنے سٹاف کو روٹین کے مطابق صبح کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔"








