جسٹس منصور اور جسٹس اطہر کے مستعفی ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
پاکستان کی سپریم کورٹ میں استعفے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کے 2 ججز کے مستعفی ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: جنوب مشرقی ایشیا میں بارشوں، طوفان اور سیلاب نے تباہی مچادی، انڈونیشیا 442، تھائی لینڈ 162، سری لنکا میں 212 افراد ہلاک
وداعی ملاقاتیں
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نے گزشتہ رات ساتھی ججز سے ان کے چیمبرز میں جا کر الوداعی ملاقاتیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے مزید مواقع تلاش کریں گے، امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن سینڈرز
ساتھی ججز کی صلاح
ذرائع نے کہا کہ ساتھی ججز نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہرمن اللہ کو استعفیٰ نہ دینے کا مشورہ دیا اور آخری وقت تک دونوں کو مستعفی نہ ہونے پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد راولپنڈی کے درمیان جدید و تیز رفتار ٹرین، سفر 20 منٹ میں طے ہو گا
آخری فیصلہ
ذرائع کے مطابق ساتھی ججز کے اصرار کے باوجود دونوں ججز اپنے فیصلے پر قائم رہے اور ملاقاتیں کرنے کے بعد استعفیٰ دیا۔ پھر سپریم کورٹ سے روانہ ہوگئے۔
عہدے سے استعفیٰ
واضح رہے کہ 27 ویں ترمیم کے معاملے پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔








