تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
اجلاس کی اندرونی کہانی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین سے زائد کرایہ وصول کرنے والے نجی کشتی مالکان گرفتار، مریم نواز کا پیغام
اجلاس کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق آج تحریک تحفظ آئین پاکستان کا غیر آئینی ستائیسویں ترمیم کے بعد ہنگامی سربراہی اجلاس زیر قیادت محمود خان اچکزئی سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں اسد قیصر، علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر خان، سلمان اکرام راجہ، اختر مینگل، زین شاہ، ساجد ترین، مصطفیٰ نواز کھوکھر، فردوس شمیم نقوی، حسین یوسفزئی، خالد یوسف چوہدری، علی اصغر خان، اور شوکت بسرہ نے شرکت کی。
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی پروگرام کا تیسرا مرحلہ، خانیوال میں 127 مسلمان اور 10 مسیحی جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب
ترمیم کے خلاف موقف
اجلاس میں کہا گیا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم بشمول چھبسیویں ترمیم آئین کی بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے اور جمہوریت کی بنیادی ستون عدلیہ پر ایک وار ہے۔ یہ ترمیم عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کر کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیتی ہے۔ ہم ان متنازعہ آئینی ترامیم کو کلیتا مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کو اصل شکل میں بحال کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اب پنجاب حکومت آپ کو سائیکل یا الیکٹرک بائیک خریدنے اور چلانے پر 1 لاکھ روپے تک انعام دے گی
مزاحمت کا عزم
اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان ان غیر آئینی ترامیم کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کا اعادہ کرتی ہے اور آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کروانے کے لئے تمام جمہوری طریقے سے بھرپور احتجاج کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ بھر میں ایم ڈی کیٹ کا دوبارہ انعقاد
خیبر پختونخواہ امن جرگہ کی حمایت
خیبر پختونخواہ امن جرگہ کے اعلامیہ کی تحریک تحفظ آئین پاکستان مکمل طور پر حمایت کرتی ہے اور اس پر عمل در آمد کا مطالبہ کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مری میں حکمران جماعت ن لیگ کی مرکزی قیادت کی بیٹھک،نئے چیف الیکشن کمشنر اور اہم آئینی امور پر مشاورت مکمل
احتجاجی سرگرمیاں
بروز سوموار اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ تک واک کریں گے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف قرار داد پیش کی جائے گی۔ اراکین پنجاب اسمبلی بروز سوموار پنجاب اسمبلی سے لاہور ہائی کورٹ تک مارچ کریں گے جبکہ لاہور میں وکلاء اجتجاج میں بھرپور شرکت کریں گے۔ اگلے جمعے کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔
رہائی کے مطالبات
تحریک تحفظ آئین پاکستان عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور پاکستان تحریک انصاف کی جملہ قیادت و کارکنان کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پابند سلاسل قیادت و کارکنان کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔








