خدا نے ہارنے کے لیے نہیں سیکھنے، سنبھلنے اور چمکنے کے لیے پیدا کیا ہے، جیتنے کی نیت زندہ رکھو، جذبے کے ساتھ آگے بڑھو اور اپنی تقدیر خود رقم کرو
زندگی کا سفر
تحریر: رانا بلال یوسف
زندگی کوئی سیدھی شاہراہ نہیں، بلکہ نشیب و فراز، امید اور آزمائشوں سے بھرا ایک سفر ہے۔ یہ کبھی آسان نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر موڑ پر روشنی میسر آتی ہے۔ آج کا نوجوان اسی سفر کے بیچ میں کھڑا ہے، ہاتھ میں خواب، دل میں جذبہ، مگر آنکھوں میں کچھ دھندلا سا خوف۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی بڑی کامیابی؛ ایوان نمائندگان نے بھی متنازع بل منظور کرلیا
خود پر یقین
خود پر یقین، یعنی یقینِ ذات، وہ پہلی اینٹ ہے جس پر خوابوں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ آج کے نوجوان کو سب سے پہلے یہ ماننا ہوگا کہ اس کی کہانی کسی اور جیسی نہیں، بلکہ اپنی ہے۔ اگر دنیا شک کرے تو کرنے دے، مگر خود پر اعتماد کبھی کم نہ ہو۔ یقین وہ طاقت ہے جو انسان کو ناممکن سے ممکن تک لے جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے بیٹے کے بعد جوبائیڈن نے 1500 سزائیں معاف، 39 افراد کو معافی دے دی
تعلیم کا مقصد
ہمارے معاشرے میں تعلیم ایک خواب سے زیادہ، ایک دوڑ بن چکی ہے۔ والدین کی توقعات، مقابلے کا رجحان، اور ناکامی کا خوف نوجوان کے ذہن پر ایسا بوجھ ڈال دیتے ہیں کہ وہ اپنی اصل صلاحیت بھول جاتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف نمبر یا ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی قوت کو پہچاننا اور اپنے راستے پر یقین رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہارورڈ یونیورسٹی میں غیرملکی طلبا پر پابندی، چین بھی میدان میں آگیا۔
روایات اور جدت کا تصادم
نوجوان نسل ایک ایسے دور میں جی رہی ہے جہاں روایت اور جدت کا تصادم بڑھتا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ نوجوان بغاوت نہیں، بلکہ مکالمہ کرے۔ تبدیلی کبھی شور سے نہیں آتی، بلکہ شعور سے آتی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ روایات کا احترام کریں، مگر اپنی راہ کے انتخاب کا حق بھی زندہ رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کم عمری کی شادی سے متعلق بل کو مذہب سے متصادم قرار دینا بچوں کے حقوق کی نفی ہے: انسانی حقوق کمیشن
تنہائی کا سفر
زندگی میں کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جو تنہائی سے گزر کر ہی منزل تک پہنچتے ہیں۔ آج کا نوجوان ہجوم میں رہ کر بھی اکیلا ہے، سوشل میڈیا کے شور میں، اپنے احساسات دبائے بیٹھا ہے۔ یاد رکھو، کبھی کبھی خدا تمہیں تنہا اس لیے کرتا ہے تاکہ تم خود کو سن سکو۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اور انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر مسلسل چوتھے روز مہنگا
نوجوان کی آواز
ہمارے معاشرے میں نوجوان کی آواز کو اکثر ’’نابالغ سوچ‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مگر یہی وہ آواز ہے جو مستقبل کی سمت طے کرتی ہے۔ نوجوان کو چاہیے کہ وہ مایوسی کے اس اندھیرے میں بھی اپنی شمع جلائے رکھے، اور اپنے اندر کے خوف کو زیر کرے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کہاں ہیں، بہن مریم ریاض وٹو نے بیان جاری کردیا
امید کا سفر
زندگی میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت نہیں، بلکہ امید بھرتی ہے۔ Healing کا مطلب بھول جانا نہیں، بلکہ سیکھ جانا ہے کہ درد بھی ایک استاد ہے۔ شفایابی کے بعد ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے، جہاں نوجوان اپنے خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے عمل کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لائسنس بنوانے والوں کیلئے اچھی خبر، پنجاب بھر میں ڈرائیونگ لائسنسنگ سینٹرز کا دورانیہ بڑھا دیا گیا۔
نوجوان کا معاشرے پر اثر
نوجوان کا سفر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے معاشرے کا رخ بدل دیتا ہے۔ قوموں کی ترقی ان عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی جو وہ بناتی ہیں، بلکہ ان خوابوں سے جو ان کے نوجوان دیکھتے ہیں۔
زندگی کا اصل فلسفہ
زندگی دراصل ایک سفر ہے، منزل نہیں۔ نوجوان کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہار صرف تب ہوتی ہے جب تم کوشش چھوڑ دیتے ہو۔ ہر زخم میں ایک کہانی ہے، اور ہر ناکامی میں ایک اشارہ ہے۔ زندگی کا راز یہی ہے کہ سات بار گرنے کے بعد آٹھویں بار اٹھو۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








