سپریم کورٹ کے 2 ججز کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جج نے بھی استعفیٰ دے دیا
لاہور ہائی کورٹ کے جج کا استعفیٰ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے استعفیٰ دیے جانے کے 2 روز بعد، لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جامعہ پنجاب اور حکومتِ پنجاب کے اشتراک سے انتہا پسندی کے تدارک پر اہم اجلاس
جسٹس شمس محمود مرزا کا استعفیٰ
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جوئے کی غیر قانونی تشہیر کا مقدمہ، عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں توسیع
27 ویں آئینی ترمیم پر جسٹس منصور علی شاہ کا موقف
سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے صدر مملکت کو بھیجے گئے 13 صفحات پر مشتمل اپنے استعفے میں کہا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔
میرے ضمیر کا صاف ہونا
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ "میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے، اور سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔"








