عظمتِ رفتہ کا چراغ، ممتاز راٹھور اور فیصل راٹھور کا منفرد مقام
راجہ ممتاز حسین راٹھور: ایک نمایاں سیاسی شخصیت
تحریر: وقار ملک
آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں راجہ ممتاز حسین راٹھور وہ نام ہیں جنہیں عوامی خدمت، اصول پسندی، سیاسی استقامت اور بے غرض جدوجہد کا روشن استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے عہد کے مقبول ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم، اسپیکر قانون ساز اسمبلی اور قائدِ حزبِ اختلال جیسے اہم مناصب پر فائز رہے۔ ان کی پوری سیاسی زندگی مسلسل جدوجہد، قربانی، عوام دوستی اور اصولوں کی پاسداری سے عبارت رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ایمل ولی خان نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے رویے کے خلاف سینیٹ میں تحریکِ استحقاق جمع کرا دی
پالیسی کے آغاز
راجہ ممتاز حسین راٹھور نے نوجوانی ہی میں عملی سیاست کا آغاز کیا۔
• ابتدا میں وہ آزاد کشمیر مسلم کانفرنس سے وابستہ رہے۔
• بعد ازاں نظریاتی ہم آہنگی، عوامی خدمت اور جمہوری سوچ کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: دکان پر کھڑی 12 سالہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے والا ملزم گرفتار
سیاسی بصیرت اور قیادت
ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی سیاسی بصیرت، سنجیدگی اور عوامی شعور کو محسوس کرتے ہوئے ان پر بھرپور اعتماد کیا۔ بعد میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی انہیں پارٹی کا ستون قرار دیا۔
ان کی سیاست کا محور ہمیشہ عوامی حقوق، جمہوری اقدار اور ترقیاتی وژن رہا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں نے 60 سے زیادہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، ذمہ داری انتہا پسند گروپ نے قبول کی، مصر میں سیاحتی سرگرمیاں معطل رہیں
وزیراعظم بننے کے اقدامات
29 جون 1990 کو راجہ ممتاز حسین راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوئے۔
اگرچہ ان کی وزارتِ عظمیٰ کا دورانیہ مختصر تھا، مگر اس ایک سال میں انہوں نے کئی ایسے اقدامات کیے جو آج بھی یاد رکھے جاتے ہیں:
• عوامی رابطہ مہم کو حکومتی ترجیح بنانا
• حویلی، راولا کوٹ اور پونچھ کے لیے ترقیاتی فنڈز کا اجرا
• حکومتی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کے نظام کا نفاذ
• تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں کا آغاز
یہ بھی پڑھیں: شیخ رشید کی بیرون ملک جانے کی درخواست منظور
انسان دوستی کا نرم پہلو
ان کا مقصد واضح تھا کہ
حکومت عوام تک خود پہنچے اور ریاستی وسائل منصفانہ انداز میں تقسیم ہوں۔راجہ ممتاز راٹھور کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی انسان دوستی اور تعلق نبھانے کا وصف تھا۔
راقم کے والد محترم محمد سلیمان مرحوم سے ان کے دیرینہ اور محبت بھرے تعلقات تھے۔
اسلام آباد یا راولپنڈی کے سفر میں جب بھی انہیں موقع ملتا، وہ ان سے ملاقات کیے بغیر واپس نہ جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سافٹ گرلز: نوکری چھوڑ کر گھر کی خاتون بننے کا رجحان اور سویڈن میں اس کی مقبولیت کی وجوہات کیا ہیں؟
فیصل ممتاز راٹھور کی سیاسی شناخت
دوستوں سے ان کی محبت، شفقت اور وفاداری ایسی تھی کہ ان کے جانے کے بعد بھی ان کی یاد لوگوں کے دلوں میں آج تک زندہ ہے آج راجہ ممتاز راٹھور کے صاحبزادے فیصل ممتاز راٹھور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
ان کی بطور وزیراعظم نامزدگی نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ راجہ ممتاز راٹھور کی سیاسی وراثت کا احترام بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی بڑی مصیبت میں پھنس گئے
فیصل ممتاز راٹھور کی خصوصیات
• والد کی طرح گہری محب وطنی
• مخلص، باوقار، مہذب اور ملنسار
• دوست پرور اور نرم گفتار
• نوجوانوں کے حقیقی رہنما
• مسئلہ کشمیر کے مؤثر عالمی ترجمان
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں نوجوان کے اغوا اور قتل کا ڈراپ سین، مقتول کا قریبی دوست ریٹائرڈ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل گرفتار
بین الاقوامی شناخت اور تقاریر
انہوں نے بیرون ملک مسئلہ کشمیر کو جس وقار، تسلسل اور دلیل کے ساتھ اجاگر کیا، وہ نئی قیادت کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
ناروے کے ایک اہم دورے کے دوران ممتاز کشمیری لیڈر اور نارویجن سیاست کے بااثر نوجوان سردار علی شاہنواز خان جنہیں کشمیری حلقوں میں سفیر کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے کے ہمراہ جب فیصل راٹھور نے ناروے پارلیمنٹ کا دورہ کیا تو وہاں کے ارکانِ پارلیمنٹ ان کی شخصیت، گفتگو اور سیاسی فہم سے بے حد متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات کے میڈیا کوآرڈینیٹر محمد شہزاد بٹ دبئی میں انتقال کر گئے
عالمی پذیرائی
ان کی تقاریر آج بھی نارویجن پارلیمنٹ میں یاد رکھی جاتی ہیں۔
وہ جہاں بھی جاتے ہیں، اپنی دلیل، اخلاق اور کردار سے دل موہ لیتے ہیں۔
فیصل راٹھور کی بطور وزیراعظم نامزدگی پر ناروے سمیت پوری اوورسیز کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی—
مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، محافل سجی، سردار علی شاہ نواز خان کی رہائش گاہ پر خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں فیصل راٹھور کی جدوجہد اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: توہین مذہب کے کیسز میں لوگوں کو پھنسانے کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ، مولانا فضل الرحمان کی جج کو دھمکی
عوام کی توقعات اور چیلنجز
عوام، نوجوان اور اوورسیز پاکستانی فیصل ممتاز راٹھور سے بے پناہ توقعات رکھتے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ ایک ایسی باصلاحیت اور وژن رکھنے والی قیادت سامنے آئے جو:
• مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرے
• ریاستی مسائل کا دیرپا حل نکالے
• نوجوانوں کو بااختیار بنائے
• ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی راہیں کھولے
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آرمی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ فوجی مشق واریئر IX کا آغاز ہو گیا
تعاون کی اہمیت
پاکستان میں چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون اور ڈی جی سید محمد نعمان شاہ جیسی تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور مخلص شخصیات موجود ہیں جو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے خواہاں ہیں۔ اگر یہ لوگ فیصل راٹھور کے ساتھ مل کر ایک مضبوط ادارہ تشکیل دیں تو کشمیر کا مقدمہ دنیا میں پہلے سے کہیں زیادہ قوت کے ساتھ اٹھایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر کے سکولوں میں پاک فوج سے اظہار یکجہتی اور یوم تشکر منایا گیا، ننھے بچوں کی امن اور اپنے ہیروز کی سلامتی کے لیے دعائیں
قیادت کا مقصد
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا وژن بھی ایک مضبوط، پرامن اور باوقار پاکستان ہے—
اگر ایسی قیادت فیصل راٹھور کے ساتھ کھڑی ہو تو مسئلہ کشمیر کو اس کی حقیقی اہمیت کے ساتھ عالمی فورمز تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
راجہ ممتاز حسین راٹھور نے جو چراغِ خدمت روشن کیا تھا، وہ آج فیصل ممتاز راٹھور کی صورت میں بھی پوری آب و تاب سے روشن ہے۔
امیدیں اور توقعات
نئی قیادت کے سامنے چیلنج بے شمار ہیں مگر امیدیں اس سے بھی بڑھ کر ہیں اگر فیصل راٹھور کو ایک موقع، صرف ایک موقع مل جائے تو مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر وہ مقام پا سکتا ہے جس کا کشمیری قوم عشروں سے انتظار کر رہی ہے۔
یہ وقت ہے کہ نئی سوچ، نئی توانائی اور نئی قیادت کو سامنے لایا جائے تاکہ کشمیر اور پاکستان ایک روشن، پرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








