پی ٹی آئی کی خاتون سینیٹر فلک ناز کے ساتھ مالی فراڈ میں ملوث 2 ملزمان گرفتار
گرفتاری کا واقعہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والی سینیٹر فلک ناز چترالی کے ساتھ مبینہ مالی فراڈ میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو مریم نواز کے نام سے منسوب کردیا گیا
این سی سی آئی اے کی کارروائی
نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ہدایت پر، این سی سی آئی اے اسلام آباد نے ضلع بہاولنگر میں چھاپہ مار کر دونوں ملزمان کو گرفتار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں تنازعات نے امن کی اہمیت کو اُجاگر کیا، پاکستان نے کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا: وزیر اعظم کا بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس سے خطاب
فراڈ کی تفصیلات
ملزمان نے خاتون سینیٹر کو شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کا روپ دھار کر فراڈ کا نشانہ بنایا۔ سینیٹر فلک ناز سے واٹس ایپ کے ذریعے 4 لاکھ 50 ہزار 500 روپے کا فراڈ کیا گیا۔ گرفتار ملزمان محمد ندیم اور اسد فلق کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ سینیٹر فلک ناز نے اس معاملے کو قائمہ کمیٹی داخلہ میں اٹھایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزادکشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع
ملزمان کی شناخت
گرفتار ملزمان کا تعلق بستی گمے والا سے ہے۔ مقدمہ ایف آئی آر 308/2025 کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی 14، 34، 109، 419 اور 420 شامل کی گئی ہیں۔ این سی سی آئی اے کے حکام دیگر ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کی بھی چھان بین اور تفتیش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر کھیت میں بھونچال سا آگیا، چُھپے درندوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے، مال گاڑی کے ڈبے لاشوں سے اَٹے پڑے تھے۔
ہیکرز کے حملے
یاد رہے کہ 6 نومبر 2025 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا تھا کہ ہیکرز نے مختلف اراکین پارلیمنٹ کو آن لائن فراڈ کے ذریعے لاکھوں روپے کا چونا لگایا ہے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اجلاس میں کہا تھا کہ ہیکرز کا یہ گروہ صرف 5 یا ساڑھے 5 لاکھ کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: احسن اقبال کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات، غزہ پیس معاہدے سے متعلق گفتگو
متاثرین کی کہانیاں
ہیکرز نے سینیٹر دلاور خان کے اکاؤنٹ سے ساڑھے 8 لاکھ روپے نکال لیے تھے۔ سینیٹر فلک ناز چترالی سے 2 قسطوں میں ہیکرز 5 لاکھ کے قریب فراڈ کر گئے تھے۔ متاثرہ سینیٹر فلک ناز کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے کونسلنگ سینٹر بنانے کے نام پر کال کے ذریعے فراڈ کیا۔
این سی سی آئی اے کی شکایات
سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ ہیکرز کے پاس فیملی، خاندان اور بچوں سے متعلق مکمل ڈیٹا موجود تھا۔ حالانکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں شکایات کے باوجود کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔








