پنجاب حکومت کی گنے کی کرشنگ کی 15 نومبر ڈیڈ لائن آج ختم، 41 میں سے صرف 5 شوگر ملز نے عملدرآمد کیا
پنجاب میں گنے کی کرشنگ کا معاملہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں گنے کی کرشنگ کی 15 نومبر کی حکومتی ڈیڈلائن پر صرف 5 شوگر ملز نے عملدرآمد کیا، جبکہ 41 میں سے 36 شوگر ملوں نے صوبائی حکومت کے احکامات ہوا میں اڑا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کی اڈیالہ جیل آمد،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی
چینی کی قیمتوں میں اضافہ
روزنامہ جنگ کے مطابق پنجاب حکومت نے شوگر ملوں کو 15 نومبر سے کرشنگ شروع کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی، جس پر عمل درآمد نہ ہونے سے چینی کی قیمت میں 3 سے 4 روپے فی کلو مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں چینی کی قیمت 200 روپے سے 215 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بی جے پی حکومت منظم طریقے سے تمام ریاستی حکومتوں کے حقوق چھین رہی ہے، تمل ناڑو کے وزیرا علیٰ ایم کے سٹالن کھل کر بول پڑے
کارروائی کا اعلان
کین کمشنر نے حکومتی ڈیڈلائن پر کرشنگ کا آغاز نہ کرنے والی شوگر ملز کے خلاف کل سے کارروائی کا اعلان کیا ہے، جن ملوں نے کرشنگ شروع نہیں کی، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
کسانوں کے خدشات
چیئرمین کسان اتحاد خالد باٹھ نے الزام عائد کیا کہ ملز مالکان تاخیر سے کرشنگ شروع کر کے کسانوں سے سستے داموں گنا خریدنے کی کوشش کریں گے۔








