خصوصی رپورٹ انٹرویوز کی بنیاد پر ہے اور جو مواد ہمیں ملا، اس کا صرف 10 فیصد رپورٹ میں ہے، بشریٰ تسکین کا موقف آگیا۔
رشادت بشریٰ تسکین کی رپورٹ
لاہور (ویب ڈیسک) دی اکانومسٹ کی خصوصی رپورٹ کی شریک مصنفہ بشریٰ تسکین نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ انٹرویوز کی بنیاد پر ہے اور دستیاب مواد کا صرف 10 فیصد شامل کیا گیا ہے۔ بہت ساری چیزیں شائع نہیں کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کا فلسطینیوں کے لیے شاندار اقدام
بشریٰ بی بی کی روحانی بصیرت
بشریٰ بی بی کے جادو ٹونے پر پچھلے بارے میں رپورٹنگ ہوتی رہی ہے، لیکن جب ہم نے اس پر کام شروع کیا تو بہت سی معلومات ہمارے لیے حیران کن تھیں۔ خاص طور پر بشریٰ بی بی کا روحانی بصیرت کا لبادہ۔ انہوں نے عمران خان کو جس طرح کنٹرول کیا، اس کے نتیجے میں ملک کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم سب مل کر اس آزمائش کو عزم و حوصلے کے ساتھ عبور کریں گے: وزیر تعلیم
عمران خان کے سیاسی وعدے
دنیا نیوز کے مطابق، بشریٰ تسکین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے سیاسی وعدے محض الفاظ کی حد تک تھے؛ کسی ایک وعدے پر بھی عمل درآمد نظر نہیں آیا۔ انہوں نے پارٹی کے سینئر ممبران سے بات چیت کی اور اکثریت نے اعتراف کیا کہ عمران خان کی ناکامی کی وجوہات اسٹیلشمنٹ کی بجائے انتظامی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت سے 625 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں خارج
کالے جادو اور عالمی میڈیا
کالے جادو کے بارے میں سوال پر، بشریٰ تسکین نے کہا کہ جب بشریٰ بی بی کی شادی ہوئی تھی تو جمائمہ نے اپنی ٹوئٹ میں کالے جادو کا ذکر کیا، لیکن بین الاقوامی میڈیا نے اس پر ٹھیک طرح سے توجہ نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں: فارم 47 والے الیکشن جیتے نہیں اور عوام کے پیسوں سے ان کی ہر کھمبے پر تشہیر جاری ہے، حماد اظہر
پاکستان میں روحانی معاملات
انہوں نے کہا کہ روحانی معاملات کو سمجھانا مشکل تھا، مگر مختلف لوگوں سے مل کر شواہد نے ہمیں مدد فراہم کی۔ بشریٰ بی بی کی عمران خان سے طلاق اور پھر شادی پر سینئر صحافی نے بتایا کہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کو ذہین قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: گھرو پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ پر بجلی بحال، کراچی کو 30 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی شروع
سیاست میں جادو کا عمل
بشریٰ تسکین کے مطابق، بشریٰ بی بی کے پاس ایسے ذرائع تھے جو انہیں معلومات فراہم کرتے تھے۔ اگر ان کے پاس واقعی روحانی طاقت ہوتی تو عمران خان اور ان کی حکومت کی صورتحال ایسی نہ ہوتی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ روزمرہ کے معاملات جادو کی بنیاد پر چل رہے تھے۔
پاکستان کا جوہری اور سیاسی مقام
انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ آبادی والے جوہری ملک کا اس وقت کا سربراہ، جو اپنی پارٹی کو سب سے بڑی پارٹی سمجھتا تھا، اپنی حکومت کے فیصلے جادو اور روحانیت کی بنیاد پر کر رہا تھا، جو کہ ہمارے لیے بہت حیران کن تھا۔








