وفاق کا خیبر پختونخوا کے ساتھ رویہ سوتیلی ماں جیسا ہے، سہیل آفریدی
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا افتتاح
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور بیوٹیفیکیشن منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیرِ بلدیات مینا خان آفریدی، اراکینِ صوبائی اسمبلی، پارٹی قائدین، کارکنان اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاسپورٹ کے اجراءمیں تاخیر کا معاملہ حل،نئے جدید پرنٹرز کی انسٹالیشن
خطاب میں اہم نقاط
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے تیسری بار عمران خان کے نظریے پر اعتماد کیا ہے، عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینا ہماری پہلی ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کی جمہوریت اور آئین کی بحالی کیلئے دی گئی قربانیوں کی وجہ سے آج آئین بحال ہے: تسنیم احمد قریشی
صوبے کے مسائل اور وفاقی امداد
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ صوبے کو دہشت گردی کی جنگ میں ایک فیصد مل رہا ہے، جب کہ سب سے زیادہ قربانیاں خیبر پختونخوا نے دیں۔ دیگر صوبوں کو مختلف مد میں ہم سے زیادہ فنڈز مل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی ودیگر سیاسی رہنماؤں کو لانگ مارچ توڑ پھوڑ کے ایک اور کیس میں ریلیف مل گیا
پن بجلی اور مالیات
سہیل آفریدی کے مطابق پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 2200 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں مگر اس پر بات نہیں کی جاتی۔ ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کا وعدہ پورا نہیں ہوا، جبکہ 500 ارب روپے اب بھی بقایا ہیں۔ سابق فاٹا کا انتظامی انضمام تو ہوا، مگر مالی انضمام آج بھی نامکمل ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں حق 19.4 فیصد بنتا ہے مگر صرف 14.6 فیصد دیا جارہا ہے۔ وفاق کا خیبر پختونخوا کے ساتھ رویہ سوتیلی ماں جیسا ہے، ہم اپنا پورا حق چاہتے ہیں۔
پشاور کی ترقی کے منصوبے
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بننے والی ہر پالیسی اور قانون سازی کا محور عوامی فلاح ہوگی۔ پشاور صوبائی دارالحکومت ہے، اس کی خوبصورتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شہر کی ترقی کے لیے مزید منصوبے بھی سامنے لائے جائیں گے۔ عوامی نمائندوں کی مشاورت سے پشاور کے لیے جامع ماسٹر پلان تشکیل دیا جائے گا۔ یہ ہمارا چہرہ ہے، ہم اسے پہلے سے بہتر بنائیں گے۔








