لاہور ہائی کورٹ کے جج کی 27 ویں ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت سے معذرت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر جج نے سماعت سے معذرت کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی خان ؛لاکھانی چیک پوسٹ پر رات گئے دہشتگردوں کا حملہ
جج کی معذرت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری محمد اقبال نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اس درخواست پر سماعت سے معذرت کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس عالیہ نیلم کو ارسال کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر کا پہلا ملزم محسن نقوی اور دوسرا عطا تارڑ ہے، لطیف کھوسہ
درخواست گزار کی نمائندگی
درخواست گزار منیر احمد و دیگر کی جانب سے ایڈووکیٹ محمد اظہر صدیق پیش ہوں گے، درخواست میں وزیراعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کو بذریعہ سیکرٹریز فریق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بسمل کی معصومہ: خواتین کا کہنا ہے کہ ڈرامہ دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنے شوہروں کی تعریف کرنا شروع کر دی ہے
درخواست میں مؤقف
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کا اصل اختیار ختم کر کے وفاقی آئینی عدالت بنا دی گئی ہے، سپریم کورٹ کی حیثیت کمزور ہونے اور عدلیہ کی آزادی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کیلئے بڑاعالمی اعزاز، سال 2027 ء کیلئے لاہور ”ای سی او“ کا سیاحتی دارالحکومت نامزد
طرز عمل پر اعتراض
درخواست گزار کے مطابق ترامیم اسلامی دفعات، عدالتی خودمختاری اور بنیادی حقوق کے خلاف ہیں، صوبوں کی مشاورت کے بغیر ترمیم سے آئینی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، وکلا، سول سوسائٹی، صحافیوں اور دیگر طبقات سے کوئی رائے نہیں لی گئی۔
درخواست کی استدعا
درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ ستائیسویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے اور درخواست کے حتمی فیصلہ تک ترمیم پر عملدرآمد روک دے.








