ججز کے استعفے جمہوریت کی بالادستی کا خواب دیکھنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں: سعد رفیق
سابق وفاقی وزیر کا بیان
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ججز کے استعفے پاکستان میں آئین، انصاف، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کا خواب دیکھنے والے ہر فرد کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیڑھ سال سے حکومت نے میری تنخواہ بند کر دی ہے” مایوس ہو کر اپنے گولڈ میڈل سیل پر لگانے والا پاکستانی ہیرو
استعفوں کی صورتحال
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ سے مستعفی ہوگئے، اور اب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی اس صف میں شامل ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کو مطلوب خطرناک دہشت گرد پاکستان کی مدد سے گرفتار
ججز کی قابلیت اور دیانتداری
انہوں نے کہا کہ جناب اطہر من اللہ ججز بحالی تحریک کے دور جدوجہد کے دوران فرنٹ لائن کے ساتھی رہے۔ میرے نزدیک وہ عدلیہ کے چند دیانتدار اور کھرے لوگوں میں سے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ کی قابلیت اور دیانتداری کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کسی دباؤ کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام کرتے ہیں۔ اسی طرح جسٹس شمس محمود مرزا بھی لاہور ہائیکورٹ میں اچھی ساکھ کے حامل ججز میں شمار ہوتے ہیں۔
آواز دروں —•—
جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس سید منصور علی شاہ مستعفی ہوگئے ہیں
اب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی استعفیٰ دے کر اس صف میں شامل ہوگئے ہیں
جناب اطہر من اللّٰہ ججز بحالی موومنٹ کے دور جدوجہد کے دوران فرنٹ لائن کے ساتھی رہے...
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) November 17, 2025
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی ملزمان میں ملٹری ٹرائل کے لیے پک اینڈ چوز کیسے کیا گیا؟ جسٹس حسن اظہر رضوی کا خواجہ حارث سے استفسار
استعفوں پر افسوس
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مستعفی ہونے والے ججز کی قابلیت اور انصاف پسندی کا میں ہمیشہ قائل رہا ہوں، چاہے ان کے عدالتی فیصلوں سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ساری منصوبہ بندی ناکام ہو رہی ہے: مصطفی کمال
رشتہ داری کے الزامات
انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس شمس محمود مرزا پر سلمان اکرم راجہ سے رشتہ داری کا الزام عائد کرنا طفلانہ حرکت ہے۔ ان کے کام میں کبھی بھی رشتہ داری نے خلل نہیں ڈالا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ناانصافی ہوگی کہ پہلے استعفوں کے ساتھ موجودہ ججز کے استعفوں کو جوڑا جائے۔ یہ حضرات عدالتی توازن کے لیے اہم تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا مستقبل میں بجلی کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ، سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کا اعلان
سیاسی تناظر میں استعفے
سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ استعفے پاکستان میں آئین، انصاف، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کا خواب دیکھنے والے ہر فرد کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
مستقبل کی پیشگوئی
انہوں نے کہا کہ استعفوں کا یہ سلسلہ شاید یہاں رکنے والا نہیں، اور یہ عدلیہ سے پارلیمنٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
لیگی رہنما نے اس جانب اشارہ کیا کہ ایک ذمہ دار ریاست کو اندرونی محاذ آرائی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خوشیوں کی بجائے پیدا ہونے والی فالٹ لائنز کو پُر کرنے کی فکر کی جائے۔








