ججز کے استعفے جمہوریت کی بالادستی کا خواب دیکھنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں: سعد رفیق
سابق وفاقی وزیر کا بیان
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ججز کے استعفے پاکستان میں آئین، انصاف، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کا خواب دیکھنے والے ہر فرد کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دیور نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر 6 ماہ کی حاملہ بھابھی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا، مقدمہ درج، ملزمان کی تلاش جاری
استعفوں کی صورتحال
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ سے مستعفی ہوگئے، اور اب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی اس صف میں شامل ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹ کی پھٹی، مرکزی شریان کا پہلا کامیاب EVAR آپریشن، پنجاب صحت کے میدان میں تاریخی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے: عظمیٰ بخاری
ججز کی قابلیت اور دیانتداری
انہوں نے کہا کہ جناب اطہر من اللہ ججز بحالی تحریک کے دور جدوجہد کے دوران فرنٹ لائن کے ساتھی رہے۔ میرے نزدیک وہ عدلیہ کے چند دیانتدار اور کھرے لوگوں میں سے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ کی قابلیت اور دیانتداری کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کسی دباؤ کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام کرتے ہیں۔ اسی طرح جسٹس شمس محمود مرزا بھی لاہور ہائیکورٹ میں اچھی ساکھ کے حامل ججز میں شمار ہوتے ہیں۔
آواز دروں —•—
جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس سید منصور علی شاہ مستعفی ہوگئے ہیں
اب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی استعفیٰ دے کر اس صف میں شامل ہوگئے ہیں
جناب اطہر من اللّٰہ ججز بحالی موومنٹ کے دور جدوجہد کے دوران فرنٹ لائن کے ساتھی رہے...
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) November 17, 2025
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پہلی مرتبہ ذیابیطس کے پیدائشی مریض بچوں کیلیے مفت انسولین کی فراہمی کا پراجیکٹ لانچ کر دیا گیا
استعفوں پر افسوس
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مستعفی ہونے والے ججز کی قابلیت اور انصاف پسندی کا میں ہمیشہ قائل رہا ہوں، چاہے ان کے عدالتی فیصلوں سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ کیوں کیا؟ اسرائیل کا سلامتی کونسل میں حیران کن بیان
رشتہ داری کے الزامات
انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس شمس محمود مرزا پر سلمان اکرم راجہ سے رشتہ داری کا الزام عائد کرنا طفلانہ حرکت ہے۔ ان کے کام میں کبھی بھی رشتہ داری نے خلل نہیں ڈالا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ناانصافی ہوگی کہ پہلے استعفوں کے ساتھ موجودہ ججز کے استعفوں کو جوڑا جائے۔ یہ حضرات عدالتی توازن کے لیے اہم تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ، ریسوریس گروپ آف پاکستان کے الیکشن کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد
سیاسی تناظر میں استعفے
سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ استعفے پاکستان میں آئین، انصاف، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کا خواب دیکھنے والے ہر فرد کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
مستقبل کی پیشگوئی
انہوں نے کہا کہ استعفوں کا یہ سلسلہ شاید یہاں رکنے والا نہیں، اور یہ عدلیہ سے پارلیمنٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
لیگی رہنما نے اس جانب اشارہ کیا کہ ایک ذمہ دار ریاست کو اندرونی محاذ آرائی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خوشیوں کی بجائے پیدا ہونے والی فالٹ لائنز کو پُر کرنے کی فکر کی جائے۔








