منشیات شہروں تک آخر پہنچتی کیسے ہے؟ بارڈر پر کیوں نہیں روکا جاتا؟ جسٹس جمال مندوخیل کا استفسار
منشیات کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)منشیات کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ منشیات شہروں تک آخر پہنچتی کیسے ہے؟ بارڈر پر منشیات کو کیوں نہیں روکا جاتا؟ عدالت نے کہاکہ بارڈر سے ایک ایک ہزار کلومیٹر تک منشیات اندر کیسے آ جاتی ہے؟ ٹنوں کے حساب سے منشیات آتی ہے، افغانستان میں منشیات کی فیکٹریاں بند ہوئیں تو یہاں شروع ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے پنجاب کی ایئر لائن ایئر پنجاب کو جلد از جلد فعال کرنے کا حکم دے دیا
سپریم کورٹ کی سختی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ منشیات کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، منشیات کی سپلائی روکنے میں ناکامی پر جسٹس جمال مندوخیل اداروں پر برہم ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عمرہ ویزے کی آڑ میں پہلے سعودی عرب اور پھر غیرقانونی طور پر سمندر کے راستے اٹلی جانے کی کوشش ناکام، 5 مسافر کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار
جسٹس جمال مندوخیل کے سوالات
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ منشیات شہروں تک آخر پہنچتی کیسے ہے؟ بارڈر پر منشیات کو کیوں نہیں روکا جاتا؟ عدالت نے کہاکہ بارڈر سے ایک ایک ہزار کلومیٹر تک منشیات اندر کیسے آ جاتی ہے؟ ٹنوں کے حساب سے منشیات آتی ہے، افغانستان میں منشیات کی فیکٹریاں بند ہوئیں تو یہاں شروع ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: حرام کی لت چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے، سچے اور درویش لوگ حق بات کسی کے سامنے بھی کہہ سکتے ہیں، دکھ اس بات کا ہے کہ ایسے لوگ اب ناپید ہو چکے ہیں
بلوچستان میں منشیات کی فصلیں
جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ بلوچستان کے 3 اضلاع میں منشیات کی فصلیں کاشت ہو رہی ہیں، سب کو معلوم ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کرتا، اے این ایف کا کام کلو، کلو منشیات پکڑنا نہیں، سپلائی لائن کاٹنا ہے، چھوٹی موٹی کارروائی تو پولیس بھی کرتی رہتی ہے۔
عدالتی ہدایت
عدالت نے اے این ایف کو ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کی ہدایت کردی اور کوریئر کمپنی کے منیجر کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی کردی۔








