علیمہ خان پھر غیر حاضر، جائیدادوں کی رپورٹ عدالت میں پیش
راولپنڈی انسداد دہشت گردی عدالت
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) راولپنڈی انسداد دہشت گردی میں علیمہ خان کی پنجاب میں جائیدادوں سے متعلق رپورٹ پیش کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنک سالٹ کی برآمد بڑھانے کیلئے سپیشل اکنامک زونز بنائے جائیں گے: وزیر معدنیات
کمیس میں عدم حاضری
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق راولپنڈی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 26نومبر احتجاج پر علیمہ خانم کے خلاف تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ کی سماعت کی، ملزمہ علیمہ خانم آج بھی عدالت پیش نہ ہوئی، دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہوگئے
علیمہ خان کی جائیدادوں کی تفصیلات
علیمہ خانم کی پنجاب میں جائیدادوں سے متعلق بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ عدالت پیش کی گئی، علیمہ خانم بھکر میں 51کنال، 16مرلے پراپرٹی کی مالکن ہیں، علیمہ خانم لاہور کے موضع میاں میر میں 1کنال 4مرلے، موضع نور پور میں 1کنال 1مرلہ پراپرٹی کی مالکن ہیں۔
علیمہ خانم موضع سلطان رائے ونڈ میں بھی 64کنال 14مرلے کی مالکن ہیں، علیمہ خانم ضلع میانوالی میں 217کنال 5مرلے کی مالکن ہیں، علیمہ خانم شیخوپورہ میں 4کنال، 13مرلے کی مالکن ہیں، 4اضلاع میں علیمہ خانم 338کنال اراضی کی مالکن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان اقبال نے بابر اعظم کے کراچی کنگز سے علیحدہ ہونے کی وجہ بتا دی
پراسیکیوشن کے الزامات
دورانِ سماعت پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ علیمہ خانم کی جائیداد کی تفصیلات اشتہاری دینے سے قبل منگوائی گئی، اشتہاری ہونے پر جائیداد سیز یا اٹیچ کی جا سکتی ہے، ملزمہ مسلسل غیر حاضر رہی تو قانون کے مطابق یہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
پراسیکیوٹر ظہیر نے مزید کہا کہ ملزمہ کے پہلے سے بھی 15اکاونٹ منجمند ہیں، عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ لوگوں کی اپیلیں سنی جائیں: شیخ رشید
عدالتی احکامات کا نفاذ
چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد کے وارنٹ گرفتاری عدالتی احکامات پر عدم عملدرآمد پر جاری کئے گئے، چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد کو تعمیل کرانے کی ہدایت کی گئی۔
سماعت کا اگلا مرحلہ
سپرداری پر گاڑی حاصل کرنے والا ایک ضامن عدالت پیش ہوا اور دو حاضر نہ ہوئے، سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہان عدالت موجود تھے، ملزمہ، وکلا صفائی کی عدم حاضری کے باعث شہادت ریکارڈ نہ ہو سکی۔ عدالت نے سماعت 20نومبر جمعرات تک ملتوی کر دی۔








