آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہ لیا تو صورتحال سنگین ہوگی: وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ کا خطاب
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ اور سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہ لیا تو سنگین صورتحال ہوگی، آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے بچوں کی افزائش میں پلاننگ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس ایران کو امریکی فورسز پر حملے کے لیے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ
آبادی کے مسائل اور غربت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پاپولیشن کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی مسائل کو جنم دیتی ہے، زیادہ آبادی مسائل اور غربت کا باعث بنتی ہے، آبادی کے حساب سے وسائل کا انتظام کرنا ہوتا ہے، آبادی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے چیلنج ہیں، پائیدار معاشی ترقی کیلئے متوازن آبادی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں اس وقت ایچ آئی وی کے 84 ہزار افراد زیر علاج ہیں، فی مریض سالانہ تقریباً 300 سے 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں، مصطفیٰ کمال
پاکستان کے چیلنجز
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آبادی اور کلائمیٹ چینج جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے، موجودہ جی ڈی پی گروتھ آبادی کی 2.5 فیصد کی ضروریات سے کم ہے، 2.55 فیصد آبادی کی گروتھ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے، پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں گاڑی پر فائرنگ، ۵ افراد جاں بحق
دیہی علاقوں کے مسائل
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے اضلاع میں زیادہ متاثرہ لوگ شامل ہیں، ہمیں فوری طور پر 2.55 فیصد آبادی کی گروتھ میں کمی لانا ہوگی، دیہی علاقوں کے لوگوں نے شہروں میں کچی آبادی قائم کی ہوئی ہیں، کچی آبادیوں میں صاف پانی، صحت، چائلڈ اسٹنٹنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛بے نظیر بھٹو ہسپتال میں سکیورٹی اہلکار نے خاتون سے زیادتی کر ڈالی
آبادی کنٹرول کی ضرورت
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے بچوں کی افزائش میں پلاننگ کی ضرورت ہے، آبادی اور کلائمیٹ چینج کے مسائل کو سنجیدہ نہ لیا تو صورتحال سنگین ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں: اسحاق ڈار
موسمیاتی تبدیلی کا اثر
سینیٹر کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی عصر حاضر کا بڑا چیلنج ہے، ماحول دوست معیشت کے فروغ پر توجہ مرکوز ہے، کچی آبادیاں بھی مسائل کا باعث بنتی ہیں، کچی آبادیوں کا کوئی ڈیٹا حکومت کے پاس موجود نہیں ہوتا، ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے آبادی کا کنٹرول ناگزیر ہے، کلائمیٹ چینج کے باعث سیلاب، خشک سالی جیسی آفات کا سامنا ہے۔
معاشی بہتری کی امید
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے، پاکستان آئی ایم ایف پروگرام اور اسٹرکچرل ریفامرز پر عملدرآمد کر رہا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے باعث ملکی معیشت بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے。







