انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت، شیخ حسینہ واجد کا ردعمل آ گیا
سزائے موت کے فیصلے پر شیخ حسینہ واجد کا ردعمل
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے پر بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلابی صورت حال کے باعث سیالکوٹ ایئر پورٹ پر فلائٹ آپریشن کل رات 10 بجے تک معطل کر دیا گیا
عدالت کی جانبداری پر تنقید
تفصیلات کے مطابق، شیخ حسینہ واجد نے اس فیصلے کو سیاسی اور جانبدار قرار دیتے ہوئے مقدمے کو "تماشا" کہا۔ انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف الزامات بےبنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا احتجاج رکوانے کیلئے تاجر یونین کی درخواست ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ کو آج ہی طلب کرلیا
افسوس اور وضاحتیں
شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ گزشتہ سال جولائی اور اگست میں ہونے والی تمام ہلاکتوں پر افسوس کرتی ہیں، لیکن اُنہوں نے یا کسی دیگر سیاسی رہنما نے مظاہرین کو قتل کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کی نئی رینکنگ جاری ، بابر اعظم ون ڈے بیٹرز میں ٹاپ پوزیشن پر برقرار
انصاف کی عدم موجودگی
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عدالت میں دفاع کرنے کا مناسب موقع نہیں ملا اور نہ ہی اپنی پسند کے وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت تھی۔ ڈاکٹر محمد یونس کی حکومت کے تحت زندگی گزارنے والے بنگلہ دیشی عوام ان نام نہاد ٹرائلز کے ڈھونگ کو سمجھتے ہیں۔ یہ کارروائیاں انصاف کے لیے نہیں بلکہ عوامی لیگ کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی ہیں تاکہ موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے دنیا کی توجہ ہٹائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی تینوں مسلح افواج کے لیے نئے ضابطوں کی منظوری دے گی
جانبدار ٹربیونل کی مذمت
شیخ حسینہ نے ٹربیونل کو مکمل طور پر جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینئر ججوں اور وکلاء کو ہٹایا گیا اور خوف زدہ کر کے خاموش کر دیا گیا۔ ٹربیونل نے صرف عوامی لیگ کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات چلائے جبکہ دیگر جماعتوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اہم مطالبات
اپنے بیان کے آخر میں، شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ ایک شفاف اور منصفانہ عدالت میں اپنے الزامات کا سامنا کرنے سے نہیں ڈرتیں اور متعدد بار مطالبہ کر چکی ہیں کہ یہ مقدمہ ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت میں لے جایا جائے تاکہ وہاں ایک ایسا ٹربیونل ہو جو ثبوتوں کو صحیح طریقے سے اور ایمانداری کے ساتھ جانچے۔








