مدینہ بس حادثہ: بھارتی شہری نے خاندان کے 18 افراد کھود دیے، آخری ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی؟
بھارتی عمرہ زائرین کی بس کا حادثہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارت سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ سید راشد نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب جانے والے عمرہ زائرین کی بس کو پیش آئے حادثے میں ان کے خاندان کے 18 قریبی افراد بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عرب ممالک میں ہونے والے میزائل حملوں کی مذمت، اگر اس طرح کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، سعودی عرب
حادثے کی تفصیلات
گزشتہ روز بھارت سے تعلق رکھنے والے عمرہ زائرین کی بس مکہ سے مدینہ منورہ جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی جس کے نتیجے 42 افراد جاں بحق ہوئے جن کا تعلق ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے بتایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا آرٹیفیشل انٹیلی جنس روڈ میپ منظور، 2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا لیڈنگ اے آئی صوبہ بنانے کا ہدف
جاں بحق افراد کی معلومات
بھارتی میڈیا کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 35 سالہ سید راشد کے والدین، 65 سالہ شیخ نصیر الدین، 60 سالہ اختر بیگم، ان کے امریکا سے عمرہ کیلئے آئے ہوئے 38 سالہ بھائی، 38 سالہ بھابھی اور ان کے 3 بچے بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا خامنہ ای کا ’زیر زمین بنکر‘ تباہ کرنے کا دعویٰ
آخری ملاقات کی یادیں
راشد نے بتایا کہ ’انہوں نے 9 نومبر کو حیدرآباد ائیر پورٹ سے عمرہ پر جانے والے تمام رشتےداروں کو خدا حافظ کہا تھا، ساتھ ہی زور دیا تھا کہ بچوں کے ساتھ سب ایک ساتھ سفر نہ کریں، کاش وہ مان جاتے تو کچھ تو بچ جاتے‘
رنجیدگی اور صدمہ
راشد کے مطابق ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اپنوں سے کی گئی یہ ملاقات آخری ملاقات ہوگی‘۔
دوسری جانب اسی حادثے میں خاندان کے 5 افراد کھونے والے ایک اور بھارتی شخص کا بتانا ہے کہ مدینہ بس حادثے میں ان کے 2 سالے، ان کی ساس اور بھانجی جاں بحق ہوئی ہے۔







