27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو کردی گئی
آئینی ترمیم اور نئی تعیناتیاں
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ہاسٹلز سے محروم 678 طلباء کو کمرے الاٹ کر دیئے
سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے جسٹس جمال خان مندوخیل کو سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کا ممبر بنا دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ ہونگے۔ جسٹس عامر فاروق جوڈیشل کمیشن کے ممبر نامزد کیے گئے، جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین خان جوڈیشل کونسل کے دوسرے سینئر ممبر ہونگے، جسٹس منیب اختر، جسٹس حسن رضاوی، اور جسٹس جمال مندوخیل بھی جوڈیشل کونسل کے رکن ہوں گے۔ جسٹس مندوخیل کی نامزدگی دونوں چیف جسٹس نے مل کر کی۔
جوڈیشل کمیشن کی نئی تشکیل
چیف جسٹس یحیی آفریدی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہوں گے، جبکہ چیف جسٹس امین خان، جسٹس منیب اختر کمیشن کے رکن ہونگے۔ جسٹس حسن رضاوی اور جسٹس عامر فاروق بھی جوڈیشل کمیشن کے ممبران کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر قانون اعظم تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور اعوان بھی کمیشن کے ارکان ہوں گے۔ حکومتی اور اپوزیشن کے دو دو ارکان پارلیمان بھی اس کمیشن میں شامل کیے جائیں گے، جبکہ پاکستان بار کونسل کا نامزد وکیل اور اسپیکر قومی اسمبلی کی نامزد کردہ خاتون بھی کمیشن کی ممبر ہوں گی۔








