عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں، 27 ویں آئینی ترمیم پڑھ کر آئیں، آئینی عدالت کے جج کا مکالمہ
اسلام آباد میں یوٹیلیٹی کارپوریشن ملازمین برطرفی کیس کی سماعت
وفاقی آئینی عدالت میں یوٹیلیٹی کارپوریشن ملازمین برطرفی کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے یوٹیلیٹی اسٹور کے برطرف سیل مین مزمل رفیق کو تیاری کیلئے وقت دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ حکومت سپر مین اور سپر سپیڈ سے ونڈر بوائے پر آگئی ہے اور بہت جلد یہ ہوم الون پر چلے جائیں گے، بیرسٹر گوہر
عدالتی ریمارکس
تفصیلات کے مطابق دوران سماعت جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں، لاہور ہائیکورٹ سے برطرفی کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل آپ نے واپس لے لی۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی ایشیا میں تنازعات کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتے ہیں: جنرل ساحر شمشاد مرزا
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار مزمل رفیق نے مؤقف اپنایا کہ مجھے عدالت نے انٹرا کورٹ اپیل واپس لینے کی ایڈوائس کی، 12 ہزار ملازم کو فارغ کردیا گیا۔ جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ 12 ہزار ملازم کی نہیں، آپ اپنی بات کریں، آپ وفاقی عدالت میں ڈائریکٹ درخواست کیسے دائر کر سکتے ہیں، کسی وکیل سے مشورہ کرلیں۔
یہ بھی پڑھیں: تمام قانونی راستے اپنانے کے باوجود چوتھی بار مجھے میرے لیڈر سے ملاقات سے روکا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی۔
آئینی ترمیم اور نقصان
جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کو آئندہ سماعت پر پڑھ کر آئیں، یوٹیلیٹی اسٹور سے کروڑوں اربوں کا نقصان ہوا، یوٹیلیٹی اسٹور میں کتنی خوردبرد پکڑی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری ارمغان سبحانی اور رانا فیاض عمرہ کی سعادت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے
حکومتی کاموں پر تنقید
جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ حکومت کے کرنے کام ہیں، یوٹیلیٹی اسٹور سے عوام کو نہیں بلکہ اسٹاف نے مزے کیے۔
سماعت کا فیصلہ
جسٹس حسن رضوی نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔








