عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں، 27 ویں آئینی ترمیم پڑھ کر آئیں، آئینی عدالت کے جج کا مکالمہ
اسلام آباد میں یوٹیلیٹی کارپوریشن ملازمین برطرفی کیس کی سماعت
وفاقی آئینی عدالت میں یوٹیلیٹی کارپوریشن ملازمین برطرفی کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے یوٹیلیٹی اسٹور کے برطرف سیل مین مزمل رفیق کو تیاری کیلئے وقت دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے وائس چیئرپرسن بیرسٹر امجد ملک کی مانچسٹر میں نئے قونصل جنرل سے ملاقات
عدالتی ریمارکس
تفصیلات کے مطابق دوران سماعت جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں، لاہور ہائیکورٹ سے برطرفی کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل آپ نے واپس لے لی۔
یہ بھی پڑھیں: 12 سالہ لڑکی کے ساتھ جبری زیادتی کے مجرم سوتیلے باپ کو عدالت نے کیا سزا دی؟
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار مزمل رفیق نے مؤقف اپنایا کہ مجھے عدالت نے انٹرا کورٹ اپیل واپس لینے کی ایڈوائس کی، 12 ہزار ملازم کو فارغ کردیا گیا۔ جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ 12 ہزار ملازم کی نہیں، آپ اپنی بات کریں، آپ وفاقی عدالت میں ڈائریکٹ درخواست کیسے دائر کر سکتے ہیں، کسی وکیل سے مشورہ کرلیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی چیف آف جنرل سٹاف کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
آئینی ترمیم اور نقصان
جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کو آئندہ سماعت پر پڑھ کر آئیں، یوٹیلیٹی اسٹور سے کروڑوں اربوں کا نقصان ہوا، یوٹیلیٹی اسٹور میں کتنی خوردبرد پکڑی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا کوئی بھارتی سن رہا ہے تو آپریشن سندور کو ختم کریں اور نیا نام دیں، اس سے جنگی نہیں، رومینٹک فیل آ رہی ہے” مرزا بلال کی طنزیہ ویڈیو وائرل ہوگئی۔
حکومتی کاموں پر تنقید
جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ حکومت کے کرنے کام ہیں، یوٹیلیٹی اسٹور سے عوام کو نہیں بلکہ اسٹاف نے مزے کیے۔
سماعت کا فیصلہ
جسٹس حسن رضوی نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔








