ایئر پورٹ پر روکے جانے پر اینکر پرسن فرخ وڑائچ کا موقف آگیا
اینکر پرسن فرخ وڑائچ کا لاہور ایئرپورٹ پر روکا جانا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن فرخ وڑائچ کا کہنا ہے کہ انہیں لاہور ایئرپورٹ پر اس لیے روکا گیا کیونکہ ان کا نام سٹاپ لسٹ میں تھا جو کہ "اوپر" سے حکم ہونے کے بعد ڈالا گیا تھا لیکن انہیں پتا نہیں کہ ان کا نام کیوں شامل ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے متاثرہ ملائیشیا کے لئے پاکستانی امداد کی پہلی کھیپ کوالالمپور پہنچ گئی
لاہور ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے اہلکاروں کا سوالات سے بھرا تجربہ
ایک فیس بک پوسٹ میں فرخ وڑائچ نے بتایا "آج کینیڈا سے واپسی پر مجھے لاہور ایئرپورٹ پر روک لیا گیا، ایف آئی اے کے اہلکار مجھے ساتھ لے گئے۔ پوچھنے لگے، سر آپ کہاں سے آئے ہیں، روکنے والے اہلکار نے کہا میں آپ کے شوز دیکھتا ہوں "آپ تو غدار نہیں لگتے" پھر بتایا آپ کا نام سٹاپ لسٹ میں ہے، آپ کب ملک سے باہر گئے تھے، اگر آپ کا مسئلہ تھا تو واپس کیوں آئے، سر وہیں سیٹل ہوجاتے یہاں کیا رکھا ہے؟" میں نے جواب دیا "بھائی میرا سب کچھ یہ ملک ہے اسی ملک نے مجھے پہچان دی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سوشل سنٹر شارجہ میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں راشن کی تقسیم
روکا گیا، جواب طلب کیا گیا
فرخ وڑائچ کے مطابق انہیں بٹھایا گیا اور کہا گیا انتظار کریں، اوپر سے پوچھ رہے۔ "میں نے سوال کیا میرا نام کس وجہ سے سٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا ہے۔ جواب ملا سر یہ تو ہمیں نہیں پتا "یہ ان کا کام ہے وہ ہی نام بھیجتے ہیں"۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بارشیں، سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ، دریاؤں میں طغیانی برقرار
ایف آئی اے کے اہلکاروں کی مہربانی
اینکر پرسن کے مطابق "سب اہلکار اچھے تھے، مجھے پوچھتے رہے چائے لیں گے؟ اگر آپ کا سامان ہے تو کسی کو کہہ دیں کیونکہ ابھی کچھ پتا نہیں شاید آپ جلدی فری ہوجائیں شاید کوئی آپ کو لینے آجائے۔ بتایا گیا کہ جنہیں روکا جاتا ہے ان کے نام کے آگے ریفرنس ہوتا ہے کہ یہ بندہ اب کن کے حوالے کرنا ہے مگر آپ کے کیس میں ایسا نہیں ہے۔ بالاخر کچھ دیر بعد مجھے کہا گیا آپ جاسکتے ہیں۔ مگر اب آپ اپنا نام نکلوالیں ورنہ آپ بیرون ملک نہیں جاپائیں گے، اہلکار نے کہا سر "ان سے مل کر اپنا مسئلہ حل کروائیں۔"
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں مشتعل شہریوں نے ڈاکو کو تشدد کے بعد جلاکر ہلاک کردیا
ایف آئی اے افسران کی شکایت
فرخ وڑائچ نے لکھا "جتنی دیر مجھے بٹھائے رکھا ایف آئی اے کے افسران کہنے لگے سر ٹی وی پر ہمارے مسائل بھی اجاگر کریں۔ سی ایس پیز نے ہماری مت ماری ہوئی ہے میرا نام کوٹ کیے بغیر ہمارا کچھ کریں کوئی پروموشن نہیں ہورہی۔ ہمارے ساتھ بہت برا سلوک کیا جارہا ہے۔ اتنی دیر میں اہلکار پاسپورٹ لے گیا اور کہا کہ سر آپ کی رپورٹ بنا لیں پھر آپ جاسکتے ہیں۔ وہیں دفتر میں میری تصویر بنائی گئی، کچھ دیر بعد پاسپورٹ میرے ہاتھ میں تھمادیا، آپ جاسکتے ہیں جلدی جلدی شکریہ ادا کرکے باہر نکلنے لگا پیچھے سے پھر آواز آئی سر رکیں۔ میں نے سوچا لگتا ہے کہ اب ضرور رگڑا لگائیں گے۔"
یادگار سیلفی اور بے یقینی کے سوالات
روکنے والا اہلکار کہنے لگا سر جی ایک سیلفی ہونی چاہیے، یادگار رہے گی۔ اس نے دوسرے اہلکار سے کہا تم بھی آجاؤ تصویر میں، جواب آیا "میں مرنا" فضا میں قہقہ بلند ہوا۔ میں مطمئن ہوکر باہر نکل آیا لیکن یہ سب لکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں اپنے ملک کے حوالے سے اتنی بے یقینی کیوں ہے، میرا نام کیوں اس لسٹ میں ڈالا گیا، میرے پر آج تک کوئی ایف آئی آر نہیں ہے، انشاءاللہ میں کوشش کر رہا پتا چلے آخر ایسا کیوں ہوا۔ الحمدللہ میں خیریت سے ہوں آپ سب کی محبت کا شکر گزار ہوں۔








