یہ لڑکیاں گجراتی رقص پیش کریں گی، پورا ہال جھوم اٹھا،ہمیں یوں لگا جیسے کوئی خوبصورت تتلی سٹیج کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اْڑتی پھر رہی ہو
مصنف کی شناخت
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 223
یہ بھی پڑھیں: Indian Female Wrestler Defeats BJP in State Elections
رقص کی محفل
ماتھے پر ہلالی شکل کا جھومر اسلامی کلچر کی نمائندگی کر رہا تھا اور ماتھے کی ہندو سرخ بندیا سے ہم آغوش ہو رہا تھا۔ پورا ہال رقاصہ کی فنی مہارت پر جھوم اٹھا اور تالیوں سے گونج اٹھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سوشل سینٹر شارجہ کی ایجوکیشن کمیٹی کے زیر اہتمام ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد
گجراتی رقص کی پرفارمنس
اس کے بعد سٹیج سیکرٹری نے پرفارمنگ آرٹ کے مشہور انسٹی ٹیوٹ کالا بھارتی سے تعلق رکھنے والی ڈانسرز کو دعوت دی۔ یہ نوجوان لڑکیاں گجراتی رقص پیش کرنے کے لیے آئیں، جنہوں نے خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ گجراتی لوک رقص کا سحر طاری کر دیا۔ اس کے بعد انہی رقاص لڑکیوں نے مشہور کلاسیکل رقص کتھک کا مختصر مظاہرہ کیا۔ یہ رقص گرو مہادیو ریشٹر سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی اور اسٹوڈنٹس کوآرڈینیشن کمیٹی کا اسلام آباد میں پرائیویٹ ہاسٹلز کے خلاف کریک ڈاؤن پر یکم اکتوبر کو احتجاج کا اعلان
رقاصہ کی شاندار پرفارمنس
آسمانی رنگ کی دلکش پوشاک میں ملبوس ایک نوجوان رقاصہ نے رقص میں ایسا انداز اپنایا کہ ہمیں یوں لگا جیسے کوئی خوبصورت تتلی سٹیج کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک رقصاں اڑتی پھر رہی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سائبر حملوں کا خدشہ، ایڈوائزری جاری
عشائیے کی دعوت
انہی لمحات میں بار کے ایک عہدیدار نے راقم کے کان میں سرگوشی کی، جس پر میں نے فوراً پاکستانی دوستوں کو بتایا کہ بار کی طرف سے ترتیب دئیے گئے عشائیے پر ہمارا انتظار ہو رہا ہے۔ ہم خاموشی سے اْٹھے اور ہال سے باہر نکل آئے۔
یہ بھی پڑھیں: شہنشاہ غزل مہدی حسن کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے عجمان میں میوزیکل نائٹ کا انعقاد
ٹی وی پر دہشت گردی کا پروگرام
ڈنر سے فارغ ہو کر ہوٹل پہنچے اور اپنے کمرے میں بھارتی ٹی وی پر چینل “زی ٹی وی” کھولا، جہاں دہشت گردی کے حوالے سے ایک پروگرام دکھایا جا رہا تھا۔ اس پروگرام میں صدر پاکستان آصف علی زرداری کے بیانات پر بات چیت ہو رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ منظور
زرداری کے بیانات کا تجزیہ
بیانات میں یہ کہا گیا تھا کہ طالبان کو پاکستان نے روس اور دیگر ممالک کے لیے تیار کیا تھا، لیکن نائن الیون کے واقعے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی۔ اس دباؤ کے تحت پاکستان کو طالبان کے خلاف کارروائی کرنا پڑا، جس کے رد عمل میں پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم شہباز شریف کو خط، عمران خان کا مکمل طبی معائنہ ذاتی ڈاکٹرز سے کرانے کا مطالبہ
بھارت کے وزیر دفاع کا تبصرہ
ٹیلی ویژن پر زرداری کے مسکراتے چہرے کی تصویر دکھائی گئی اور تبصرہ کرنے کے لئے سابق بھارتی وزیر دفاع بھرت ورما کو بلایا گیا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ زرداری کے اس بیان کے بعد پاک، بھارت تعلقات میں بہتری کے امکانات کیا ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: صوابی میں 18 سالہ بدبخت بیٹے نے فائرنگ کر کے باپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا
بھارت کی پالیسی پر تنقید
بھرت ورما نے کہا، "زرداری کے قبولی بیان کی کوئی اہمیت نہیں، کیونکہ پاکستان میں کبھی جمہوری حکومت قائم نہیں ہوئی۔ اس وقت 2009 میں پاکستان پر فوج اور آئی ایس آئی کی حکومت ہے۔" انہوں نے بھارت کی کمزور پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بھارت کو اپنی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک سپر طاقت کے طور پر کھڑا ہونا چاہیے۔
جاری ہے
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








