خاتون اغوا کیس: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پر اظہارِ برہمی
لاہور ہائیکورٹ میں خاتون کے مبینہ اغوا کا کیس
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2025 میں طورخم بارڈر سے کتنے افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجا گیا، کتنے مسافروں کو داخلے سے روک دیا گیا ..؟ اہم تفصیلات جاری
سماعت کا آغاز
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: جماعت اسلامی کا 10 مقامات پر دھرنوں کا اعلان
والدین کی ذمہ داری
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ والدین نے بچوں کا اندراج نادرا میں کیوں نہیں کروایا، اگر نادرا میں بچوں کا ریکارڈ موجود ہوتا تو کہیں نہ کہیں سے ٹریس ہو جاتے، والدین کیوں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 37087 مجالس، 9825 جلوسوں کی مانیٹرنگ، 1421 ذاکرین و مقررین کی ضلع بندی، 809 کی زباں بندی کے احکامات جاری
ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی تفصیلات
ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضا نے آگاہ کیا کہ ہم نے رحیم یار خان اور راجن پور کے علاقوں میں ٹیمیں بھیجی ہیں، ہیومن ٹریفکنگ کے اینگل سے بھی کیس پر تفتیش کی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی بھی آپ کی ٹیم تفتیش کر رہی ہے؟
ڈی آئی جی نے بتایا کہ تین مختلف جگہوں پر ہماری ٹیمز موجود ہیں، جن پولیس افسران نے پہلے رسپانڈ کیا ان سے بھی دوبارہ پوچھ گچھ کی، عدالت نے پوچھا کہ آپ کی ٹیم جو جامشورو گئی ہوئی ہے اس کے لیے کتنا ٹائم چاہئے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ دنیا میں کسی نے بھی اس خاتون کو دیکھا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل انسانیت کی جنگ لڑ رہا ہے
سوشل میڈیا کا کردار
ڈی آئی جی نے کہا کہ ایک ٹک ٹاک اکاونٹ کو دیکھا جس پر اس خاتون کی تصویر لگی ہوئی تھی، یہ ایک کانسٹیبل کا اکاونٹ تھا جس نے بطور مزاح یہ تصویر وہاں اپلوڈ کی تھی۔
عدالت عالیہ نے استفسار کیا کہ یہ اکاونٹ کب بنا اور یہ تصویر اس پر کب لگی، یہ پولیس اہلکار ہے تو اس سے تفتیش کا طریقہ کار بھی مختلف ہی ہو گا۔
عدالت نے مزید پوچھا کہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر کیسے موجود تھی؟ کیا آپ لوگوں کا ریکارڈ محفوظ نہیں ہے؟ کیا حساس ریکارڈ ہر ایک کی رسائی میں ہوتا ہے؟ آپ خواتین کا مذاق بناتے ہیں اور پھر ریکارڈ کو استعمال کرتے ہیں؟
چیف جسٹس کا سخت نوٹس
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سارے کیس کی فائل میرے حوالے کریں، پہلے میں کیس کی ساری فائل دیکھوں گی پھر تاریخ دوں گی۔
بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔








