محکمہ داخلہ نے جماعت اسلامی کو مینار پاکستان پر اجتماع کی اجازت دے دی
اجتماع کی اجازت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)محکمہ داخلہ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر مینار پاکستان پر دینی، دعوتی اور اصلاحی اجتماع کی اجازت دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک بار پھر سازش کے تحت ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، فاروق ستار
اجازت کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جماعت اسلامی نے 21 سے 23 نومبر تک دینی، دعوتی، اصلاحی اجتماع کیلئے این او سی کی درخواست کی تھی، ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی نے دفعہ 144 کے حکمنامے میں مخصوص نرمی کی سفارش کی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟
دفعہ 144 میں نرمی
ڈپٹی کمشنر لاہور کی سفارش پر دفعہ 144 میں مخصوص نرمی کا فیصلہ کیا گیا، مخصوص اور محدود اجازت کو دفعہ 144 کے حکم نامے کا حصہ بنا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا 9مئی کیسز میں پارٹی رہنماؤں کو سزاؤں کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان
شرائط و ضوابط
یاد رہے کہ ضلعی انتظامیہ نے اصلاحی اجتماع کیلئے 20 اکتوبر کو این او سی جاری کیا تھا جس کی توثیق کیلئے درخواست کی گئی، اجتماع کی اجازت سخت شرائط و ضوابط کے ساتھ مشروط قرار دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: BNB کی فیشل کٹ نے فروخت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے
اجازت نامہ کی تفصیلات
اجازت نامہ کے مطابق منتظمین کو ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ قواعد و ضوابط پر من و عن عملدرآمد کرنا ہوگا، اجتماع کی اجازت منتظمین کے حلف نامے اور ذمہ داری قبول کرنے کی بنیاد پر دی گئی، انتظامیہ سٹیج سکیورٹی، خواتین و حضرات کیلئے علیحدہ انکلوژرز اور ہنگامی راستوں کی ذمہ دار ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: رائل مراکش فضائیہ کے انسپکٹر میجر جنرل محمد غادی کا نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ، سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات
ہجوم اور سکیورٹی
انتظامیہ ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کیلئے مناسب پارکنگ اور رضاکار فراہم کرے گی، تمام سکیورٹی ضروریات اسپیشل برانچ کے آڈٹ کے مطابق پوری کی جائیں گی، اجتماع کے دوران ساؤنڈ سسٹم صرف گراؤنڈ کے اندر اور کم والیوم پر استعمال ہوگا، کم عمر بچوں کو اجتماع میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پہلا سکوک بانڈ لانچ، دنیا مائیکرو اکنامک استحکام سے مطمئن، ملائیشین ماڈل اپنانا ہوگا، وزیر خزانہ
پابندیاں اور اقدامات
واضح رہے کہ کسی دکاندار کو زبردستی کاروبار بند کرانے کی اجازت نہیں ہوگی، کسی قسم کا جلوس یا ریلی سڑکوں پر نہیں نکالی جائے گی، آئینی اداروں، عدلیہ یا افواج کے خلاف تقاریر مکمل طور پر ممنوع ہیں، کسی قسم کے اسلحے یا لاٹھی کی اجازت نہیں دی جائے گی، کسی مذہبی گروہ یا فرقے کی توہین پر مبنی گفتگو کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سعودی عرب پہنچ گئے،ورلڈ ڈیفنس شو میں شرکت کریں گے
اجتماع کا ماحول
اجتماع کے اعلان کیلئے موبائل وین یا کسی بھی گاڑی کا استعمال نہیں ہوگا، شہر میں کہیں بھی وال چاکنگ کی اجازت نہیں ہوگی، اجتماع کے دوران مکمل پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا، قابل اعتراض اور اشتعال انگیز نعروں پر پابندی ہوگی، منتظمین کسی بھی ناگہانی واقعہ کی تمام ذمہ داری خود اٹھائیں گے۔
سکیورٹی کی یقین دہانی
پولیس عام شہریوں اور شرکاء کی مکمل سکیورٹی یقینی بنائے گی۔








