آئی ایم ایف کو پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات، گورننس اینڈ کرپشن رپورٹ جاری

آئی ایم ایف کی رپورٹ: بدعنوانی اور گورننس کی صورتحال

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں گورننس اور بدعنوانی سے متعلق رپورٹ جاری کر دی، جس میں پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ادبی و ثقافتی ترقی کے نئے باب رقم ہورہے ہیں، عوام کا اعتماد ہمارا حوصلہ ہے: عظمیٰ بخاری

اصلاحاتی ایجنڈا

روزنامہ جنگ کے مطابق، 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ اصلاحات سے پاکستان کی معیشت 5 سے 6.5 فیصد تک بہتر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم 2 تہائی اکثریت سے منظور

سرکاری اداروں کی اصلاحات

رپورٹ میں اہم سرکاری اداروں کو حکومتی ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنے، ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں شفافیت بڑھانے اور حکومت کے مالیاتی اختیارات پر سخت پارلیمانی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی صحافی اسد ملک کو برطانوی پولیس نے گرفتار کرلیا، صفینہ خان کا دعویٰ

انسداد بدعنوانی کی ضروریات

آئی ایم ایف نے انسدادِ بدعنوانی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور عملدرآمد میں زیادہ شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے، گورننس بہتر بنانے سے نمایاں معاشی فائدے حاصل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان کرکٹر راشد خان نے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر تصاویر اپ لوڈ کر کے دوسری شادی کی تصدیق کر دی

ٹیکس نظام کی پیچیدگیاں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس سسٹم پیچیدہ، کمزور انتظام اور نگرانی بدعنوانی کا باعث ہے، جبکہ عدالتی نظام کی پیچیدگی اور تاخیر معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری شفقت محمود کو دو سال کے لیے صدر اور چوہدری عبدالخالق لک کو سکریٹری جنرل پاکستان انوسٹرز فورم نامزد کیا گیا

ای گورننس کی ہدایت

آئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کی جانب سے سالانہ رپورٹ فوری جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام سرکاری خریداری 12 ماہ میں ای گورننس سسٹم پر لانے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعہ) کا دن کیسا رہے گا ؟

مالی شفافیت پر سوالات

ایس آئی ایف سی کے اختیارات، استثنیٰ اور شفافیت پر آئی ایم ایف نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں کمی بدعنوانی کے خطرات کی علامت ہے، بجٹ اور اخراجات میں بڑے فرق سے حکومتی مالیاتی شفافیت پر سوالات ہیں۔

معاشی نقصان کا جائزہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 23 تا دسمبر 24 نیب کی 5.3 ٹریلین روپے کی ریکوری معیشت کو پہنچے نقصان کا کم حصہ ہے، جبکہ پی ٹی آئی حکومت کی 2019 میں چینی برآمد کی اجازت ظاہر کرتی ہے کہ اشرافیہ اپنے مفاد کے لیے پالیسوں پر قابض ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...