آج 7ویں بار مجھے عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، 3 ججز کے حکم پر ایس ایچ او کہتا ہے میں نے آرڈر نہیں دیکھا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا عمران خان سے ملاقات پر بیان

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کےلئے وزیراعظم کو اب کال نہیں کروں گا، اگر کسی کے پاس اختیار نہیں ہے تو اس سے بات کرنے کا کیا فائدہ۔

یہ بھی پڑھیں: انڈیا میں مسجد کے سروے کے دوران چار افراد ہلاک: مسلمانوں کو یکطرفہ نشانہ بنایا گیا، ہم میں پولیس کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں

اجتماع پر اظہار خیال

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر تمام راستے اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارے پاس عدالتی احکامات موجود ہیں، اس کے بعد کون ہے جو مجھے روک رہا ہے؟ تین ججز کے احکامات موجود ہیں، یہ کہتے ہیں ہم نے آرڈر نہیں دیکھے، عدالتی احکامات اتنے بے توقیر ہو چکے کہ ایک ایس ایچ او کہہ رہا ہے کہ میں نے دیکھا ہی نہیں؟ اداروں کو اس پر فوری ایکشن لے کر اپنے احکامات پر عمل درآمد کرانا چاہیے۔ اگر ادارے اپنے احکامات نہیں منواتے تو پھر ہم سے گلہ ہی نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق کے بعد پاکستان، بھارتیوں کے اعصاب پر سوار، اب مسافر طیارے کے حادثے کے بعد انٹرنیٹ پر کیا کہہ رہے ہیں؟ جانیے

تلخی کی وجہ

ان کا کہنا تھا کہ میری تلخی اسی وجہ سے ہے کہ آئین و قانون کی پاس داری نہیں ہو رہی، میری تلخی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ میں کوئی دھمکی یا ایسا لہجہ استعمال نہیں کر رہا جو قانون و آئین کے دائرے سے باہر ہو۔ میرا حق ہے کہ اگر کوئی آئین و قانون پر عمل نہیں کر رہا تو اسے تھوڑے تلخ لہجے میں سمجھاؤں، یہی میں کر سکتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں انسانیت سوز واقعہ، پڑوس میں پانی لینے گئی بچی کے ساتھ زیادتی، شور مچانے پر فرار

محمود اچکزئی کے بیان پر ردعمل

وزیراعلیٰ نے کہا کہ محمود اچکزئی صاحب نے جو بات کی ہے وہ تجربے کی بنیاد پر کی ہو گی۔ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں، محمود اچکزئی کو بانی نے تمام ذمہ داریاں دی ہوئی ہیں۔ ہم تنظیمی لوگ ہیں، ہم اسی پر عمل کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: معاہدہ ابراہیمی کا بنیادی مقصد مسلمان ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرانا ہے: نجم سیٹھی

وفاق سے تعلقات کی ضرورت

سہیل آفریدی نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کو پہلے دن ہی درخواست کی تھی کہ کچھ کریں اور مجھے ملنے دیں۔ اگر ان سے بات کرنے کی میری خواہش نہ ہوتی تو ان کی کال کی اٹینڈ نہیں کرتا۔ میں وفاق سے اچھے ورکنگ ریلیشن چاہ رہا تھا، مجھے جو جواب ملا اس کے بعد مناسب نہیں سمجھا کہ انہیں دوبارہ بتاؤں، اگر کسی کے پاس اختیار نہیں ہے تو اس سے بات کرنے کا فائدہ؟

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ؛ پی ٹی آئی کے 24 نومبر احتجاج کے لئے سرکاری وسائل کے استعمال پر ایڈووکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب

مالی واجبات کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ وفاق ہمیں فیڈریشن یونٹ سمجھے اور ہمارے تین ہزار بلین سے زائد کے واجبات دے۔ واجبات ملنے پر ہم ترقی میں جو تھوڑے پیچھے رہ گئے اسے کور کرلیں گے۔ آئین و قانون کی بات کرنے کے باوجود میرے خلاف ایف آئی اے کا مقدمہ درج ہوگیا، اس کا مطلب ہے کہ میرا یہاں آنا فضول نہیں، تبھی میرے خلاف ایف آئی اے کا پرچہ ہوا۔ میں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ ہوں، اس کے باوجود میرا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: حضرت امیر خسروؒ کے عرس میں شرکت کیلئے 188 پاکستانی زائرین کو ویزے جاری

انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کا ذکر

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی میں انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کبھی نہیں رکے، یہ خود بھی کہہ چکے ہیں کہ 14 ہزار سے زائد آئی بی او آپریشن کر چکے ہیں۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ کے پی میں دہشت گردی نہیں ہو رہی۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بند کمروں سے باہر آکر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پالیسی اپنانے پڑے گی تو کوئی فوجی، سویلین شہید نہیں ہوگا۔

دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ 20 سال سے اگر دہشت گردی ختم نہیں ہورہی تو دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تبدیلی آنا چاہیے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے مخالف نہیں، عام شہریوں کی شہادتوں پر ہمارا اعتراض ہے۔ فوجی شہداء بھی ہمارے اپنے ہیں، ان پر ہم کبھی سوالات نہیں اٹھاسکتے۔ جس پالیسی شفٹ کی بات ہم کرتے ہیں، ہمیں پتہ ہے اس سے پاکستان میں امن آسکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...