کراچی کے ماسٹر پلان کو کرپشن پلان میں بدلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، ایوان اور عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر آئیں گے، خالد مقبول صدیقی
کراچی کے ماسٹر پلان پر تنقید
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے شہر قائد کے ماسٹر پلان کو کرپشن پلان میں بدلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جعفر ایکسپریس اور بولان میل تکنیکی وجوہات پر منسوخ
انصاف کے حصول کی کوششیں
انہوں نے کہا کہ ایوان اور عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر آئیں گے۔ یہ شہر 17 سالہ جعلی حکومت کے تحت مشکلات کا شکار ہے اور اب اس کے خاتمے کا وقت آ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معاشرے میں تمام تر خرابیاں اور مسائل بدنیتی، نااہلی اور غیردانشمندانہ پالیسیوں کے پیدا کردہ ہیں،جرائم میں اضافے نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔
پریس کانفرنس کا مقصد
گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور ڈاکٹر فاروق ستار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ عام شہریوں کے مسائل پر ہمارے وکلا عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ ہم قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اپنی آواز پہنچائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بیٹے کی شکایت لے کر آنے والے شخص نے پڑوسی کو قتل کردیا گیا
مہم کی توسیع
پریس کانفرنس کی بنیادی وجہ ہماری لیگل ایڈ کمیٹی کے آئندہ کا پروگرام دینا ہے۔ آج ہماری کراچی ماسٹر پلان 2047 کے خلاف مہم کا آخری دن تھا، مگر ہم اس مہم کو مزید 10 دن کے لیے بڑھا رہے ہیں۔ ہمارے کارکنان اس شہر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں میں تیزی، 140 سے زیادہ فلسطینی شہید
حیدرآباد میں ترقیاتی اقدامات
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس حکومت میں رہ کر کراچی اور حیدرآباد کے لیے پیکیج لیا ہے۔ 77 سال کے بعد حیدرآباد میں ایک یونیورسٹی قائم ہوئی ہے اور کراچی کے کئی کالجز کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے عہدے کا حلف اٹھا لیا
سندھ کے بجٹ کی حقیقت
کراچی لوٹ کا مال نہیں، سندھ کا 97 فیصد بجٹ دیتا ہے جبکہ ایک فیصد ٹیکس نہ دینے والے سو فیصد اختیار استعمال کررہے ہیں۔ سندھ میں سو فیصد دینے والوں کو ایک فیصد اختیار نہیں۔ اس طرح تو گھر بھی نہیں چلتے، خاندان تقسیم ہوجاتے ہیں۔
عزم و ہمت
انہوں نے کہا کہ اگر ایوان اور عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو ہمیں سڑکوں پر آنا پڑے گا۔








