حکومت کا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لیے نامزد محمود خان اچکزئی کے نام پر اعتراض ، چیف وہپ عامر ڈوگر کو خط لکھ دیا
حکومت کا پی ٹی آئی کی تجویز پر اعتراض
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے تجویز کردہ محمود خان اچکزئی کے نام پر اعتراض کرتے ہوئے چیف وہپ عامر ڈوگر کو خط لکھ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری ایران اسرائیل جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کرے، وزیراعظم
محمود خان اچکزئی کا نام فائنل ہے
ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود خان اچکزئی کے نام پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عامر ڈوگر نے اس حوالے سے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے مشاورت کے بعد خط کا جواب دیا جائے گا، تاہم ہمارا اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود خان اچکزئی کا نام فائنل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق سینٹ کام کمانڈر فرینک میکنزی کا ایران پر زمینی حملے کا انکشاف
اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی
عامر ڈوگر نے کہا کہ بانی تحریک انصاف سے مشاورت کے بعد محمود خان اچکزئی کا نام دیا گیا تھا۔ اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود خان اچکزئی کا نام تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ گزشتہ دو ماہ سے اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی ہے جس دوران 27ویں ترمیم کو منظور کرایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس جاری
آئینی حق کی پاسداری
محمود خان اچکزئی آئینی طور پر اسمبلی کا حصہ ہیں، ان کے نام پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں۔ یہ ہمارا آئینی حق ہے، اس میں حکومت کو تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس نام پر بانی تحریک انصاف سے مشاورت ہو چکی ہے اور اب دوبارہ مشاورت نہیں ہو گی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا خط
عامر ڈوگر نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خط کا جواب دیا جائے گا۔








