مستقبل میں کام ’’اختیاری‘‘ اور پیسہ ’’غیر اہم‘‘ ہو جائے گا،ایلون مسک کی پیشگوئی
ایلون مسک کا مستقبل کا ویژن
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک نے کہا ہے کہ اگلے 10 سے 20 سال میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ہیومینائیڈ روبوٹ دنیا کو اس حد تک بدل دیں گے کہ لوگوں کے لیے کام کرنا ’’ضرورت‘‘ نہیں رہے گا بلکہ صرف ایک شوق کی شکل اختیار کر لے گا، جبکہ پیسہ اپنی اہمیت کھو دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امن کی آشا کے لیے اہم ترین مسائل کا حل ضروری ہے جن میں کشمیر اور آبی دہشت گردی کے مسائل شامل ہیں، بھارت نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا
مستقبل میں کام کا نوعیت
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق واشنگٹن میں منعقدہ یو ایس سعودی انویسٹمنٹ فورم کے ایک پینل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے مسک نے کہا کہ مستقبل میں روزگار کی نوعیت تبدیل ہو جائے گی اور لوگ کام اسی طرح کریں گے جیسے آج کل کوئی کھیل کھیلتا ہے یا اپنے شوق کے مطابق گھر میں سبزیاں اُگاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری میں ملوث گینگ کا کارندہ مردان سے گرفتار
کام کا اختیاری ہونا
ان کے مطابق “میرے خیال میں طویل المدتی مستقبل میں کام اختیاری ہو جائے گا۔ کچھ لوگ صرف اس لیے کام کریں گے کہ انہیں کام کرنے میں مزہ آئے گا، جیسے کچھ لوگ دکان سے خریداری کے باوجود اپنے گھر میں سبزیاں اُگاتے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: ارشد ندیم نے ورلڈایتھلیٹکس چیمپئن شپ فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔
معاشی تبدیلیاں
ایلون مسک نے کہا کہ اے آئی اور روبوٹکس کی ترقی نہ صرف انسانوں کو محنت مزدوری سے آزاد کر دے گی بلکہ عالمی معیشت کی بنیادیں بھی بدل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کانگریس رہنما چرن جیت سنگھ چنی نے بالاکوٹ سرجیکل سٹرائیکس کے ثبوت طلب کرلئے
پیسوں کی غیر متعلقگی
مسک نے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا “اگر آپ مستقبل میں کافی آگے تک دیکھیں تو پیسہ غیر متعلق ہو جائے گا۔ کرنسی کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔”
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے ساتھ عوامی سطح پر قطع تعلق کر لینا اور اسے دشمن قرار دینا پاکستان کے مفاد میں نہیں، تجزیہ کار عثمان شامی
غربت کا خاتمہ
انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اور ہیومینائیڈ روبوٹ غربت کو مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں، کیونکہ مستقبل میں بے شمار کمپنیاں ایسے روبوٹ تیار کر رہی ہوں گی جو دنیا بھر میں خوشحالی لائیں گے۔
اے آئی اور روبوٹکس کا کردار
ایلون مسک کا کہنا تھا کہ “ہر انسان کو امیر بنانے کا واحد راستہ اے آئی اور روبوٹکس ہے، یہی ٹیکنالوجی غربت کا خاتمہ کرے گی۔”








