عجمان میں فیض احمد فیض کی یاد میں ایک منفرد اور یادگار محفل کا انعقاد، مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کی شرکت
یادوں کی محفل
دبئی (طاہر منیر طاہر) - یو اے ای کی ریاست عجمان میں فیض احمد فیض کی یاد میں ایک نہایت خوبصورت شام ڈاکٹر نورالصباح اور عائشہ شیخ عاشی کی زیرِ اہتمام چائے شائے کیفے، عجمان میں منعقد کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اقرار الحسن نے اپنی تینوں بیویوں کے ساتھ عید الاضحیٰ کیسے منائی؟ تصاویر سامنے آگئیں۔
محفل کے رنگ
یہ روح پرور محفل تین دلکش حصوں پر مشتمل تھی جن میں انقلابی، رومانوی اور فنی رنگ پوری آب و تاب کے ساتھ جھلک رہے تھے۔ محفل کی صدارت ظہیر مشتاق رانا نے کی، جنہوں نے فیض کی زندگی، فن، جلاوطنی، رومانی و انقلابی پہلوؤں پر گفتگو کی، جس نے حاضرین کو یوں مسحور کر دیا جیسے فیض خود ان کے سامنے موجود ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: 64 ارکان کی تعداد مکمل، سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری جاری
شعراء کی شمولیت
یو اے ای کے سینئر شعراء و ادباء نے محفل کی رونق میں خوب اضافہ کیا۔ میگی اسنانی نے فیض کی منتخب نظموں سے محفل کا آغاز کیا اور اسے ایک حسین رنگ عطا کیا۔ رضا احمد رضا کی رومانوی شاعری نے محفل کو محبت کی خوشبو سے بھر دیا۔ علی زیرک کی شاعری کے رنگوں نے حاضرین کے دل و دماغ کو تازگی بخشی۔
یہ بھی پڑھیں: ملکہ برطانیہ کمیلا پارکر چیسٹ انفیکشن میں مبتلا
انقلابی کلام
اس حصے میں جناب احیاء الاسلام نے اپنا انقلابی کلام جس سحر انگیز انداز میں پیش کیا، اس نے محفل کو لمحہ بھر میں فیض کے عہد میں لا کھڑا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے؟ تجزیہ نگار نے بتا دیا
یادگار لمحات
بھارت کے نامور داستان گو ساحل آغا کی شرکت اور دلنشین پرفارمنس نے محفل میں یادگار لمحات رقم کیے، جبکہ سردار فراز نے اپنے فن سے انہیں بہترین انداز میں سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی طرف سے سی سی ڈی کی مثالیں دینے پر فواد چوہدری کا تبصرہ
وردہ لودھی کا تعارف
فن کے میدان میں یو اے ای میں موجود باوقار شخصیات میں وردہ لودھی پیش پیش رہیں۔ انہوں نے:
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
دشتِ تنہائی میں اے جاںِ جہاں لرزاں ہیں
کو اپنی دلکش آواز میں پیش کر کے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ ان کا ساتھ ہر لمحے سردار فراز نے بخوبی نبھایا۔
یہ بھی پڑھیں: گریٹا ٹنبرگ اور اس کے ساتھیوں کو غزہ پہنچنے سے پہلے ہی اسرائیل نے حراست میں لے لیا، ویڈیو
مشترکہ پرفارمنس
نبراس سہیل نے فیض کا کلام تحت اللفظ پیش کیا اور ایک بار پھر سردار فراز نے اپنی موسیقی سے اس تسلسل کو جادوئی بنا دیا۔ دونوں کی مشترکہ پرفارمنس محفل کا عروج ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ڈویژن میں 120 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب، “دھی رانی پروگرام کمزور طبقے کی خوشیوں کا ضامن بن چکا ہے: سہیل شوکت بٹ”
جدیدیت کا امتزاج
شہر یار سرکار کی مٹکا پرفارمنس نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ سردار فراز کے گٹار کی تاروں اور مٹکے کی کھنک نے روایت و جدیدیت کا حسین امتزاج پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان مذاکرات کیلئے تیار ہیں اور ۔۔۔ علی امین گنڈا پور کا بڑا اعلان
خراج عقیدت
مشہور نظم "ہم دیکھیں گے" علی راؤ نے پیش کی تو پورا مجمع ان کی آواز میں آواز ملا کر فیض کو خراج عقیدت پیش کرتا نظر آیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کردی
ایوارڈ کی تقسیم
ڈاکٹر نورالصباح نے حسب روایت ہر شریکِ محفل کو عزت، احترام اور محبت کے ساتھ ایوارڈ سے نوازا۔ محفل کے اختتام پر تمام شعراء و فنکاروں کو افتخار درانی اور عمران گورائیہ نے اعزازات پیش کیے۔
تحائف اور مہمان
نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے بھی تحائف دیے گئے، جبکہ ڈاکٹر نورالصباح نے اپنا خصوصی پرفیوم معزز مہمانوں کے نام کیا۔ اس یادگار شام میں رفعت علوی، افتخار درانی، عمران گورائیہ، ملک اسلم، سید سلیم، نازش اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔








