عجمان میں فیض احمد فیض کی یاد میں ایک منفرد اور یادگار محفل کا انعقاد، مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کی شرکت
یادوں کی محفل
دبئی (طاہر منیر طاہر) - یو اے ای کی ریاست عجمان میں فیض احمد فیض کی یاد میں ایک نہایت خوبصورت شام ڈاکٹر نورالصباح اور عائشہ شیخ عاشی کی زیرِ اہتمام چائے شائے کیفے، عجمان میں منعقد کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11، نئی ٹیموں کی نیلامی، تاریخ میں توسیع کا اعلان
محفل کے رنگ
یہ روح پرور محفل تین دلکش حصوں پر مشتمل تھی جن میں انقلابی، رومانوی اور فنی رنگ پوری آب و تاب کے ساتھ جھلک رہے تھے۔ محفل کی صدارت ظہیر مشتاق رانا نے کی، جنہوں نے فیض کی زندگی، فن، جلاوطنی، رومانی و انقلابی پہلوؤں پر گفتگو کی، جس نے حاضرین کو یوں مسحور کر دیا جیسے فیض خود ان کے سامنے موجود ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے ای چالان کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والی 100 سے زائد جعلی ویب سائٹس بلاک کروا دیں
شعراء کی شمولیت
یو اے ای کے سینئر شعراء و ادباء نے محفل کی رونق میں خوب اضافہ کیا۔ میگی اسنانی نے فیض کی منتخب نظموں سے محفل کا آغاز کیا اور اسے ایک حسین رنگ عطا کیا۔ رضا احمد رضا کی رومانوی شاعری نے محفل کو محبت کی خوشبو سے بھر دیا۔ علی زیرک کی شاعری کے رنگوں نے حاضرین کے دل و دماغ کو تازگی بخشی۔
یہ بھی پڑھیں: سیکرٹری پاور ڈویژن کی بجلی کے پروٹیکٹڈ صارفین کی کیٹیگری ختم کرنے کی خبروں کی تصدیق
انقلابی کلام
اس حصے میں جناب احیاء الاسلام نے اپنا انقلابی کلام جس سحر انگیز انداز میں پیش کیا، اس نے محفل کو لمحہ بھر میں فیض کے عہد میں لا کھڑا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کی تقریب میں فائرنگ رقاصہ کی جان لے گئی
یادگار لمحات
بھارت کے نامور داستان گو ساحل آغا کی شرکت اور دلنشین پرفارمنس نے محفل میں یادگار لمحات رقم کیے، جبکہ سردار فراز نے اپنے فن سے انہیں بہترین انداز میں سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: مجوزہ آئینی ترمیم پاس کرانے کیلئے ٹائم لائن مسئلہ نہیں، بلاول بھٹو
وردہ لودھی کا تعارف
فن کے میدان میں یو اے ای میں موجود باوقار شخصیات میں وردہ لودھی پیش پیش رہیں۔ انہوں نے:
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
دشتِ تنہائی میں اے جاںِ جہاں لرزاں ہیں
کو اپنی دلکش آواز میں پیش کر کے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ ان کا ساتھ ہر لمحے سردار فراز نے بخوبی نبھایا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے نعیم اعجاز سمیت 10 افراد پر قتل و اقدام قتل کا مقدمہ درج۔
مشترکہ پرفارمنس
نبراس سہیل نے فیض کا کلام تحت اللفظ پیش کیا اور ایک بار پھر سردار فراز نے اپنی موسیقی سے اس تسلسل کو جادوئی بنا دیا۔ دونوں کی مشترکہ پرفارمنس محفل کا عروج ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کی ہانگ کانگ سکسز ٹورنامنٹ میں بھارت کے خلاف جیت پر پاکستانی ٹیم کو مبارکباد
جدیدیت کا امتزاج
شہر یار سرکار کی مٹکا پرفارمنس نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ سردار فراز کے گٹار کی تاروں اور مٹکے کی کھنک نے روایت و جدیدیت کا حسین امتزاج پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ کے فائنل میں جگہ بنالی
خراج عقیدت
مشہور نظم "ہم دیکھیں گے" علی راؤ نے پیش کی تو پورا مجمع ان کی آواز میں آواز ملا کر فیض کو خراج عقیدت پیش کرتا نظر آیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے قافلے پر فائرنگ ، پولیس کا مؤقف بھی آ گیا
ایوارڈ کی تقسیم
ڈاکٹر نورالصباح نے حسب روایت ہر شریکِ محفل کو عزت، احترام اور محبت کے ساتھ ایوارڈ سے نوازا۔ محفل کے اختتام پر تمام شعراء و فنکاروں کو افتخار درانی اور عمران گورائیہ نے اعزازات پیش کیے۔
تحائف اور مہمان
نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے بھی تحائف دیے گئے، جبکہ ڈاکٹر نورالصباح نے اپنا خصوصی پرفیوم معزز مہمانوں کے نام کیا۔ اس یادگار شام میں رفعت علوی، افتخار درانی، عمران گورائیہ، ملک اسلم، سید سلیم، نازش اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔








