عجمان میں فیض احمد فیض کی یاد میں ایک منفرد اور یادگار محفل کا انعقاد، مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کی شرکت
یادوں کی محفل
دبئی (طاہر منیر طاہر) - یو اے ای کی ریاست عجمان میں فیض احمد فیض کی یاد میں ایک نہایت خوبصورت شام ڈاکٹر نورالصباح اور عائشہ شیخ عاشی کی زیرِ اہتمام چائے شائے کیفے، عجمان میں منعقد کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عازمین حج 2026 سے اخراجات 2 اقساط میں لینے کا فیصلہ
محفل کے رنگ
یہ روح پرور محفل تین دلکش حصوں پر مشتمل تھی جن میں انقلابی، رومانوی اور فنی رنگ پوری آب و تاب کے ساتھ جھلک رہے تھے۔ محفل کی صدارت ظہیر مشتاق رانا نے کی، جنہوں نے فیض کی زندگی، فن، جلاوطنی، رومانی و انقلابی پہلوؤں پر گفتگو کی، جس نے حاضرین کو یوں مسحور کر دیا جیسے فیض خود ان کے سامنے موجود ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات، وکلاء اور فیملی کی فہرست جاری
شعراء کی شمولیت
یو اے ای کے سینئر شعراء و ادباء نے محفل کی رونق میں خوب اضافہ کیا۔ میگی اسنانی نے فیض کی منتخب نظموں سے محفل کا آغاز کیا اور اسے ایک حسین رنگ عطا کیا۔ رضا احمد رضا کی رومانوی شاعری نے محفل کو محبت کی خوشبو سے بھر دیا۔ علی زیرک کی شاعری کے رنگوں نے حاضرین کے دل و دماغ کو تازگی بخشی۔
یہ بھی پڑھیں: عدنان صدیقی کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے بدلے میں اُن سے کتنی رقم بٹوری؟ چاہت فتح علی خان کا ایسا انکشاف کہ سوشل میڈیا صارفین ٹوٹ پڑے۔
انقلابی کلام
اس حصے میں جناب احیاء الاسلام نے اپنا انقلابی کلام جس سحر انگیز انداز میں پیش کیا، اس نے محفل کو لمحہ بھر میں فیض کے عہد میں لا کھڑا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے دل و ذہن میں یہ احساس و ادراک پیدا کر لیجیے کہ ماضی میں کسی قیمت پر بھی تبدیلی ممکن نہیں، ماضی گزر چکا، اب یہ واپس نہیں آئے گا
یادگار لمحات
بھارت کے نامور داستان گو ساحل آغا کی شرکت اور دلنشین پرفارمنس نے محفل میں یادگار لمحات رقم کیے، جبکہ سردار فراز نے اپنے فن سے انہیں بہترین انداز میں سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر کی برطرف کردہ امریکی جنرل جو چین پر جوہری حملے کی دھمکی دے چکے تھے
وردہ لودھی کا تعارف
فن کے میدان میں یو اے ای میں موجود باوقار شخصیات میں وردہ لودھی پیش پیش رہیں۔ انہوں نے:
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
دشتِ تنہائی میں اے جاںِ جہاں لرزاں ہیں
کو اپنی دلکش آواز میں پیش کر کے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ ان کا ساتھ ہر لمحے سردار فراز نے بخوبی نبھایا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی بورڈ کا اجلاس، چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار
مشترکہ پرفارمنس
نبراس سہیل نے فیض کا کلام تحت اللفظ پیش کیا اور ایک بار پھر سردار فراز نے اپنی موسیقی سے اس تسلسل کو جادوئی بنا دیا۔ دونوں کی مشترکہ پرفارمنس محفل کا عروج ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے سے ایرانی سرکاری ٹی وی کی نشریات بند ہوگئیں
جدیدیت کا امتزاج
شہر یار سرکار کی مٹکا پرفارمنس نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ سردار فراز کے گٹار کی تاروں اور مٹکے کی کھنک نے روایت و جدیدیت کا حسین امتزاج پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی میگا کرپشن سکینڈل میں مزید سنسنی خیز انکشافات، لگژری گاڑیوں اور جائیدادوں کی تفصیلات منظر عام پر، 25 ارب کے اثاثے منجمد، اہم گرفتاریاں متوقع۔
خراج عقیدت
مشہور نظم "ہم دیکھیں گے" علی راؤ نے پیش کی تو پورا مجمع ان کی آواز میں آواز ملا کر فیض کو خراج عقیدت پیش کرتا نظر آیا۔
یہ بھی پڑھیں: فلم میں زیادتی کا سین شوٹ کیا گیا تو مجھے ۔۔ بالی ووڈ اداکارہ کا حیران کن انکشاف
ایوارڈ کی تقسیم
ڈاکٹر نورالصباح نے حسب روایت ہر شریکِ محفل کو عزت، احترام اور محبت کے ساتھ ایوارڈ سے نوازا۔ محفل کے اختتام پر تمام شعراء و فنکاروں کو افتخار درانی اور عمران گورائیہ نے اعزازات پیش کیے۔
تحائف اور مہمان
نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے بھی تحائف دیے گئے، جبکہ ڈاکٹر نورالصباح نے اپنا خصوصی پرفیوم معزز مہمانوں کے نام کیا۔ اس یادگار شام میں رفعت علوی، افتخار درانی، عمران گورائیہ، ملک اسلم، سید سلیم، نازش اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔








