جرگے میں شرکت کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنا وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے: پشاور ہائیکورٹ
پشاور ہائی کورٹ کے ریمارکس
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کیسز میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرگے میں شرکت کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنا وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کا دورہ اسرائیل، مجموعی طور پر 8.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے متوقع
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق دائر مختلف درخواستوں پر سماعت ہوئی، کیسز پر سماعت جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: کاش میں وہ غلطی نہ کرتا: پاکستان میں پولیو کے بڑھتے کیسوں کا افغانستان سے تعلق کیا ہے؟
جرگے میں شرکت کے بعد لاپتہ ہونا
سماعت کے دوران امن جرگہ میں شرکت کے بعد لاپتہ ہونے والے محمد ناظیف سمیت دیگر افراد کی درخواست پر بھی پیش رفت ہوئی، عدالت نے جرگہ سے واپسی پر افراد کے لاپتہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خاندان کی مرضی کے بغیر شادی پر لڑکی کے باپ نے خودکشی کرلی،بیٹی کے نام جذباتی نوٹ
چیف جسٹس کے ریمارکس
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جرگہ میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کو واپسی پر اٹھا لیا جائے؟
یہ بھی پڑھیں: سیما ہندو مذہب قبول کرچکی، ڈی پورٹ ہونے کی خبروں پر وکیل کا موقف آگیا
عدالت کی استفسار
عدالتی استفسار میں مزید کہا گیا کہ جب مہمانوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو پھر انہیں بلایا کیوں جاتا ہے؟ امن جرگے میں شرکت کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنا وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے۔
آئندہ سماعت کی کارروائی
بعدازاں عدالت نے مجموعی طور پر 6 درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا اور کیس پر پیش رفت کے لیے سی سی پی او پشاور سے رپورٹ طلب کر لی۔








